سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ نے باضابطہ چارج سنبھال لیا
تازہ ترین : 1

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ نے باضابطہ چارج سنبھال لیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی نو منتخب کابینہ نے باضابطہ چارج سنبھال لیا جبکہ سابقہ کابینہ کی جانب سے چارج حوالے کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رخصت ہونے والے ججز نے کمزور فیصلے دیئے ہیں جن پر نظرثانی کے لئے درخواستیں دائر کر یں گے ۔ جمہوریت کو خطرہ ہوا تو وکلاء دفاع میں سب سے آگے ہوں گے ۔

جسٹس(ر) جواد ایس خواجہ کے شکر گزار ہیں کہ ان کی علی ظفٰر کے خلاف کارروائی نے ہماری فتح میں اہم کردار ادا کیا جبکہ نو منتخب صدر علی ظفر نے کہا کہ اگر عدلیہ نے آئین و قانون سے انحراف کیا تو ہم اس کی کھل کر مخالفت کریں گے ۔ وکلاء کے وقار اور عزت نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ جمہوریت ،آزاد عدلیہ عدالتی نظام اور بار کی مضبوطی کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے جبکہ سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے کہا ہے کہ ملک بھر کے وکلاء ملک کی سیاسی صورت حال اور عدلیہ کے حوالے سے سخت بے چینی اور ہیجان کا شکار ہیں اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو یہ بے چینی خطرناک صورت حال اختیار کر سکتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وکیل بنیادی طور پر معاشرے کے کچلے ہوئے بے بس اور ناانصافی کی چکی کے پاٹوں میں پسنے والی عوام کے حقوق لڑنے والا فائٹر ہے وکلاء ہی تھے کہ جنہوں نے بدترین آمریت کو شکست دی اور ہر مارشل لاء کے خلاف سینہ سپر رہے ۔ وکلاء میں وہ طبقہ ہے کہ جس میں جمہوریت پائی جاتی ہے اور ہر سال ان کے باقاعدگی سے انتخابات ہوتے ہیں منگل کے روز سپریم کورٹ بار کے تحت منعقدہ تقریب میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ جو ججز بننے کے اہل نہیں ہیں ان کو ججز بنایا جا رہا ہے وکلاء ایسے تمام لوگوں کی کھل کر مخالفت کریں ۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ وکلاء برادری سے جو بھی وعدے کئے ہیں ان کو مکمل کریں گے وکلاء کے ہاسٹل ، ہیلتھ انشورنس اور دیگر حوالوں سے کام کیا جائے گا ۔ پورے سال کا ایجنڈا دیں گے ۔امریکن اور یورپین بار سے ملاقاتیں کریں گے ۔ بعدازاں جانے والی کابینہ نے آنے والی کابینہ کو خوش آمدید کہا اور ایک دوسرے کو گلدستے پیش کئے ۔ سابقہ صدر فضل حق عباسی نے سب کا شکریہ ادا کیا ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/11/2015 - 14:51:45

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں