کیا مودی برطانیہ سے کوہ نور، ٹیپو کی تلوار واپس لا پائیں گے؟ دورہ برطانیہ سے قبل ..
تازہ ترین : 1

کیا مودی برطانیہ سے کوہ نور، ٹیپو کی تلوار واپس لا پائیں گے؟ دورہ برطانیہ سے قبل بحث شروع ہوگئی

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 نومبر۔2015ء)بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں اور دورے سے قبل اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ وہ اس دوران کن مسائل پر بات کریں گے۔برطانیہ کے مختلف عجائب گھروں میں موجود قیمتی نوادرات اور جواہرات کو بھارت واپس لانے کا معاملہ بھی ان میں سے ایک ہے۔بھارت نژاد برطانوی ایم پی کیتھ واز سمیت کئی گروپ گذشتہ کئی برسوں سے اس مسئلے کو اٹھاتے رہے اور ان لوگوں نے مودی کے دورے کے دوران اسے پیش کرنے کی درخواست بھی کی ۔

وسطی ریاست آندھرا پردیش کی ایک کان سے برآمد کوہ نور ہیرا پہلے 720 کیرٹ کا ہوا کرتا تھا۔ پہلے پہل بادشاہ علاؤ الدین خلجی کے جنرل ملک کافور نے اسے حاصل کیا تھا اور یہ برسوں تک خلجی خاندان کے خزانے میں رہا۔مغل حکمران بابر کے پاس پہنچنے کے بعد اس نے مغلوں کے ساتھ کئی سو سال گزارے ‘شاہ جہاں کے تخت طاوٴس پر اپنی چمک پھیلانے کے بعد کوہ نور ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پاس پہنچا۔

سب کے بعد ایک تحفے کے طور پر کوہ نور برطانیہ کی ملکہ کو سونپا گیا اور اس کے بعد سے یہ ملکہ کے تاج میں جڑا ہوا ہے۔بہر حال ایک زمانے میں دنیا کے سب سے بڑے ہیروں میں شمار ہونے والا کوہ نور اب صرف 105 کیرٹ کا ہی رہ گیا لندن کے برٹش میوزیم میں میسور کے بادشاہ ٹیپو سلطان کی تمام چیزیں سنبھال کر رکھی ہوئی ہیں ‘

خصوصی کاریگری والی ٹیپو سلطان کی ایک وزنی تلوار ان میں سے ایک ہے۔

اگلے خانے میں ٹیپو سلطان کی ایک خوبصورت سی انگوٹھی رکھی ہوئی ہے جسے شریرنگا پٹٹنم میں ہونے والی جنگ میں ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانوی فوج انگلینڈ لے گئی تھی ‘تقریبا 500 کلو گرام وزن والی سلطان گنج بودھ کی قد آدم مورتی (مجسمہ) برطانیہ کے برمنگھم شہر کے میوزیم کی زینت ہے۔تقریبا 1500 سال پرانا مہاتما بودھ کا یہ مجسمہ پیتل کا ہے جو 861 میں بہار کے بھاگلپور ضلعے سلطان گنج علاقے میں ریل کی پٹر?اں بچھاتے ہوئے ایک انگریز افسر کو ملا تھا۔

تاریخ دانوں کے مطابق تقریبا 2000 سال پہلے نقاشی کے ان نمونوں سے جنوب مشرقی بھارت کے ایک معروف ستوپ کا دروازہ سجا رہتا تھا۔1845 میں ایک برطانوی افسر سر والٹر ایلیٹ کی نگرانی میں امراوتی کے ستوپ کی کھدائی کا کام شروع ہوا اور 1880 کی دہائی میں تقریبا 120 نقاشی کے نمونے برطانوی میوزیم پہنچے۔لندن کے برٹش میوزیم میں جب بھارتی سیاح پہنچتے ہیں تو سب کی نگاہیں سرسوتی کے مجسمے کو تلاش کرتی ہوتی ہیں۔ہندو اور جین مذاہب میں علم، موسیقی اور ودیا کی دیوی تسلیم کی جانے والی سرسوتی کی مورتی کا تعلق وسطی بھارت کے مشہور بھوج شالا مندروں سے بتایا جاتا رہا ہے۔تاریخ دانوں کے مطابق 1886 میں اس مورتی کو برطانوی میوزیم نے اپنے تحفظ میں لے لیا تھا۔

وقت اشاعت : 10/11/2015 - 13:55:29

اپنی رائے کا اظہار کریں