قابل تقسیم محاصل میں 50رب روپے کے بقایا جات وفاق کی طرف سے سندھ کو ادا نہیں کیے جارہے، ..
تازہ ترین : 1

قابل تقسیم محاصل میں 50رب روپے کے بقایا جات وفاق کی طرف سے سندھ کو ادا نہیں کیے جارہے، وزیر اطلاعات سندھ

سندھ کو قابل تقسیم محاصل میں سے اپنا پورا حصہ دے، کھوکھراپار میں سکول کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء) سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات و تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کہا ہے کہ قابل تقسیم محاصل میں سے سندھ کے وفاقی حکومت کی طرف 50ارب روپے کے بقایا جات ہیں جو کہ وفاق کی طرف سے سندھ کو ادا نہیں کیے جارہے ہیں ۔وفاقی حکومت کا یہ عمل سندھ سے زیادتی ہے ۔وفاقی حکومت عملی طور پر اپنا وعدے وفا نہیں کرسکتی تو بلنگ و بانگ دعوے بھی نہیں کرے اور سندھ کو قابل تقسیم محاصل میں سے اپنا پورا حصہ دے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کھوکھراپار کے علاقے ملیر میں واقع پبلک ماڈل اسکول کے دورے کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ وفاقی حکومت کو قابل تقسیم محاصل میں سے سندھ کو 164ارب روپے میں سے 50ارب روپے دینے ہیں جو ابھی تک سندھ کو نہیں دیئے گئے جو سندھ کے ساتھ زیادتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ کو مکمل طور فنڈز فراہم کرنے سے متعلق جھوٹ بول رہی ہے اور سندھ کو قابل تقسیم محاصل میں سے اپنا مکمل طور پرحصہ فراہم نہیں کیاجارہاہے ۔

انہوں نے کہا کہ 2008میں جنرل مشرف کے دور میں ڈددلیوشن کے تحت 8ایکڑ اراضی پر کھوکھرا پار پبلک ماڈل اسکول 60کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا جو کہ شہری حکومت کے ماتحت تھا ،جس کو تاحال محکمہ تعلیم سندھ کے حوالے نہیں کیا گیا ہے ۔اسکول کی حالت خراب ہے اور یہ اسکول فنکشنل بھی نہیں ہے ،اس کو فنکشنل کرنے کے لیے اسکول کا بورڈ آف گورنر تشکیل دے کر اس کو فوری فنکشنل کیا جائے گا پھر اسکول گرلز پبلک اسکول کے طور پر کام کرے گا ۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ اسکول کے دورے کا مقصد بلدیاتی انتخابی مہم چلانا نہیں ہے کیونکہ اس اسکول کی کوئی نئی اسکیم نہیں ہے اس لیے کسی بھی اسکول کو کھولنے کے لیے ہر وقت کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔پبلک اسکول کی خراب حالت کی ذمہ دار شہری حکومت ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں 1200کیمپس اسکول قائم کی جارہے ہیں جن کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ اس اسکول کے نزدیک ایک اور اسکول میں ڈی ای او تعلیم کا آفس قائم ہے ،جس کا نوٹس لیا گیا ہے ۔اس آفس کو فوری منتقل کرکے وہاں بچوں کو تعلیم دینے کی ہدایات دے دی ہیں ۔

وقت اشاعت : 09/11/2015 - 22:56:27

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں