چین کی افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے میزبانی کی پیش کش
تازہ ترین : 1
چین کی افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے میزبانی کی پیش ..

چین کی افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے میزبانی کی پیش کش

جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں،افغان مسئلے کاسیاسی حل تلاش کرناہوگا،ڈینگ شی چن

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء) چین نے افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے میزبانی کی پیش کش کرتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان چین کے مصالحتی کردار کو مسترد کردیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ڈینگ شی چن نے اسلام آباد سے کابل روانگی سے قبل ایک انٹرویو میں بتایا کہ افغانستان کے سیاسی عمل میں طالبان اہم قوت ہیں،چین نے پہلے بھی افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار اداکیا اگر دونوں فریقین آمادہ ہوجائیں توچین افغانستان کے امن و استحکام کیلئے ایک بارپھر مذاکرات میں بطور سہولت کارکرداراداکرنے کے لیے تیارہے اورمذاکرات کیلئے مناسب وینیوبھی فراہم کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہاکہ چین مری میں ہونے والے مذاکراتی عمل کی بحالی چاہتاہے،ہم افغانستان میں استحکام کیلئے پاکستان کے کردارکے حامی ہیں،افغان لیڈرشپ اور پاکستانی حکام امن عمل کی بحالی سے متعلق پرامید ہیں،مثبت سوچ اورمشترکہ کوششوں کے نتیجے میں ہم اپنا ہدف حاصل کرسکتے ہیں،پاکستان اورافغانستان کے درمیان تلخیاں دور کرنے کا واحد راستہ مذاکرت ہیں،دونوں پڑوسی ممالک مذاکرات کی میزپربیٹھ کربات چیت کے ذریعے غلط فہمیاں دورکرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہاکہ دونوں ممالک کوایک دوسرے سے تعاون بڑھاکرآگے بڑھناچاہیے۔ ڈینگ شی چن کے مطابق جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں،افغان مسئلے کاسیاسی حل تلاش کرناہوگا،یہی چین کی پالیسی ہے،مسئلے کاسیاسی حل نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان چین اورخطے کے دیگرممالک کے بہترین مفادمیں ہے اس سے خطے میں ترقی ہوگی،خاص طور پر معیشت کوفروغ ملے گا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے امیدظاہرکی کہ امریکا 2017 میں فوجی انخلا کے بعدبھی افغان فورسزکے ساتھ مل کرافغانستان میں استحکام کی کوششیں جاری رکھے گا۔

ڈینگ شی چن نے مزیدکہاکہ امریکا اورچین کے درمیان یہ بات طے ہوچکی ہے کہ افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جائیں گے،ہمیں مری امن عمل میں تعطل کے بعد مذاکرات کے سلسلے کوآگے بڑھانے کے لیے امریکا کا تعاون بھی درکار ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان،امریکااورچین کی مشترکہ کوششوں کے بہتر نتائج نکلیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/11/2015 - 21:43:14

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • Toofan Says : 11/11/2015 - 01:38:42

    Magar ab Taliban ke do fariqon main jang jaari hai. Ab koi mujhe bata sakta hai ke yeh kya ho raha hai? Yeh log apne aap ko Islam ke bani aur muhafiz kehlate hain aur phir apne aapas main laraii kar rahe hain. Kya is se log apne hifaazat ke lye in par bharosa karenge? Kya kisi ko lagta hai ke yeh log Islam ke lye lar rahe hain kyon ke jo yeh kar rahe hain, us ko to main jihad nahin keh sakta. Yeh sirf andar ki laraii hai aur woh bhee qudrat sambhalne ke lye. Afso,s sad afsos.

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں