تحر یک انصاف نے سپیکر شپ کے الیکشن میں اپنی ہار کا پتہ ہونے کے باوجود کیوں حصہ ..
تازہ ترین : 1

تحر یک انصاف نے سپیکر شپ کے الیکشن میں اپنی ہار کا پتہ ہونے کے باوجود کیوں حصہ لیا ؟عمران خان کا ’’سولو فلائٹ ‘‘کا فیصلہ غلط ہے ‘اپوزیشن جماعتیں اکیلئے لڑیں گی تو انکونقصان اور فائدہ حکو مت کو ہوگا ‘18ویں ترامیم کے بعد محکمہ تعلیم صوبوں کو منتقل ہونے سے اسکا بیڑہ غرق ہو چکا ہے ،بلدیاتی انتخابات میں سب جماعتوں کو اپنا پتہ چل چکا ہے، اگلے دو مر حلوں میں سب کو ملکر چلنا ہو گا ‘بلدیاتی انتخابات کے پہلے مر حلے میں (ن) لیگ نہیں آزادامیدواروں کو اکثریت ملی ہے ‘لیگی دھڑوں میں ڈیڈ لاک ہے ، کوئی بھی جماعت اپنی جماعت کسی دوسری میں ضم کر نے کو تیار نہیں ‘عمران خان کو ذاتی نہیں صرف سیاسی معاملات کے بارے میں مشورہ دے سکتا ہوں، کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بغیر ملک سے بجلی کا بحران ختم نہیں ہو سکتا

مسلم لیگ (ق) کے صدر وسینیٹر چوہدری شجاعت حسین کا پر یس کانفر نس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء) مسلم لیگ (ق) کے صدر وسینیٹر چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بغیر ملک سے بجلی کا بحران ختم نہیں ہو سکتا ‘ تحر یک انصاف نے سپیکر شپ کے الیکشن میں اپنی ہار کا پتہ ہونے کے باوجود کیوں حصہ لیا ؟عمران خان کا ’’سولو فلائٹ ‘‘کا فیصلہ غلط ہے ‘اپوزیشن جماعتیں اکیلئے لڑیں گی تو انکونقصان اور فائدہ حکو مت کو ہوگا ‘18ویں ترامیم کے بعد محکمہ تعلیم صوبوں کو منتقل ہونے سے اسکا بیڑہ غرق ہو چکا ہے دنیا میں کہیں بھی تعلیم کا محکمہ صوبوں کے پاس نہیں ہو تا ‘بلدیاتی انتخابات میں سب جماعتوں کو اپنا پتہ چل چکا ہے اگلے دو مر حلوں میں سب کو ملکر چلنا ہو گا ‘بلدیاتی انتخابات کے پہلے مر حلے میں (ن) لیگ نہیں آزادامیدواروں کو اکثریت ملی ہے ‘لیگی دھڑوں میں ڈیڈ لاک ہے کیونکہ کوئی بھی جماعت اپنی جماعت کسی دوسری میں ضم کر نے کو تیار نہیں ‘عمران خان کو ذاتی نہیں صرف سیاسی معاملات کے بارے میں مشورہ دے سکتا ہوں ‘وزیر اعظم نوازشر یف جب تک ہمارے ساتھ رہے انکو ’’لبرل ‘‘کا لفظ بھی نہیں آتا تھا آج وہ لبر ل پاکستان بنانے کی باتیں کرتے ہیں ۔

سوموار کے روز اپنی رہائش گا پر پر یس کانفر نس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ سپیکر کا عہد ہ سب کیلئے ایک جیسا ہو تا ہے کیونکہ وزیر اعظم سمیت ہر کوئی جناب سپیکر ہی کہہ کر پکارتا ہے اور اسی لیے ہم نے سپیکر شپ کیلئے (ن) کی حمایت کی ہے اور جب عمران خان اور ا نکی جماعت کو پہلے سے ہی اس بات کا علم تھا کہ انکو سپیکر شپ کے الیکشن میں شکست ہونی ہے تو وہ بتائے کہ تحر یک انصاف اپنا امیدوار کیوں لیکر آئی اسکا کیا فائد ہ ہوا ہے ؟۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں سولو فلائٹ کر نیوالوں کو نقصان ہو تا ہے او ر عمران خان بھی اپوزیشن کی کسی جماعت کو ساتھ لیکر چلنے کو تیار نہیں اور سیاست میں سولو فلائٹ کرتے ہیں جسکی وجہ سے انکا نقصا ن ہو تا ہے ۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ نے بلدیاتی انتخابات میں پہلے مر حلے میں پنجاب میں بھر پور دھاندلی اور سر کاری مشینری کو استعمال کیا ہے اور اس اسکے باوجود (ن) لیگ واضح کا میابی حاصل نہیں کر سکی بلکہ آزاد امیدوار زیادہ کا میاب ہوئے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی بدتر ین کر پشن ہو رہی ہے اور کر پشن کر نیوالوں کو پکڑ نے کیلئے پاکستان میں احتساب کا شفاف ادارہ ہو نا چاہیے تاکہ بلا تفر یق احتساب کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں تعلیم کا محکمہ وفاق کے پاس ہو تا ہے مگر پاکستان میں 18ویں ترامیم کے بعد یہ اختیار صوبے کو دیا گیا جس سے تعلیم کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے اور اب جس کا دل کر یگا وہ قائداعظم کی تصاویر کی جگہ کتابوں پر اپنے لیڈر کی تصویر لگا دے گا ۔

انہوں نے کہا کہ شہبا زشر یف عام انتخابات سے پہلے بجلی بحران ختم نہ کر نے پر نام بدلنے کی باتیں کرتے رہے وہ بتائے انکا کیا نام رکھا جائے؟ملک میں جب تک کالا باغ ڈیم نہیں بنے گا اس وقت بجلی کی لوڈشیڈ نگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا اور موجودہ حکمران بھی لوڈشیڈ نگ کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کے پاس اختیار ات نہیں وہ اپنے اختیار ات کیلئے جلوس نکالیں گے مگر پنجاب حکو مت بلدیاتی نمائندوں کو اختیار ات دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 09/11/2015 - 21:29:15

اپنی رائے کا اظہار کریں