سند ر اسٹیٹ لاہور میں محنت کشوں کا قتل عام لیبر قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ ..
تازہ ترین : 1

سند ر اسٹیٹ لاہور میں محنت کشوں کا قتل عام لیبر قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہوا ،لیاقت ساہی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 نومبر۔2015ء)مزدور رہنما لیا قت علی ساہی نے سند رانڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں فیکٹری زمین بوس ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاقتیں پوری قوم کیلئے باعث تشویش ہے خصوصاً محنت کش طبقے کا ایک مخصوص ٹولہ استحصال کر رہا ہے بلکہ ان کو دستور کے تحت دیئے گئے حقوق سے بھی محروم کر رہاہے اور پبلک وپرائیویٹ سیکٹر میں لیبر قوانین کی روشنی میں ہیلتھ اور سفٹی پر بھی عمل درآمد کرنے کے بجائے خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔

سند ر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور جیسے پہلے بھی ملک بھر میں واقعات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا بلکہ مشرف کی آمرانہ دور میں تمام اداروں میں محنت کشوں پر ٹھکیداری نظام کو جبری مسلط کرکے ان کو نہتے کرکے مسلسل قتل کیا جا رہاہے اس کی واضح مثال سندر فیکٹری میں روزانہ دو سو رپے دہاڑی پر مزدوروں کی ہلاقتیں ہیں جن سے آٹھ گھنٹے کے بجائے بارہ گھنٹے جبری کام لیا جا تا تھا جو کہ نہ صرف ملک کے دستور کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئی آر اے کی بھی صریحاً خلاف ورزی تصور کی جا رہی ہے اور تمام اداروں میں ٹھکیداری نظام کو ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی سطح پر کوئی آواز موجودہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں نہیں اٹھا رہی بنیادی طور پر تمام سیاسی پارٹیوں پر جاگیر داروں اور سرمایہ دار طبقہ قابض ہو چکا ہے جس کی وجہ سے محنت کش طبقے کے جائز حقوق کیلئے بات کرنے سے استحصالی قوتیں کے مفادات کو ٹھیس پہنچتی ہے اس لئے اداروں میں بد ترین سطح پر محنت کشوں کا استحصال کیا جا رہا ہے اگر سند ر انڈسٹریکل اسٹیٹ لاہور کی فیکٹریوں میں آئی آر اے کی روشنی میں ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن ہو تی تو ان کی قیادت ہیلتھ اور سیفٹی پر عمل درآمد کرواتی ۔

انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران سے مطالبہ کیا کہ سب نے ملک کے دستور پر عمل کرانے کیلئے حلف لیا ہواہے جبکہ تمام اداروں میں اس کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں اس پر خاموشی دستور کی خلاف ورزی کے مترادف ہے لہٰذا ٹھکیداری نظام کو ختم کرکے تمام اداروں میں مستقل بنیادوں پر کلریکل اور نان کلریکل کیڈرز میں بھرتیاں کی جائیں اور آئی آر اے کی روشنی میں ٹریڈ یونین کی رجسٹریشن کو تما اداروں میں لازمی قرار دیا جائے۔

وقت اشاعت : 09/11/2015 - 17:01:07

اپنی رائے کا اظہار کریں