ٹیم میں نیا ٹیلنٹ شامل ہو نے سے پرفارمنس میں بھی بہتری آرہی ہے‘ اظہر علی
تازہ ترین : 1
ٹیم میں نیا ٹیلنٹ شامل ہو نے سے پرفارمنس میں بھی بہتری آرہی ہے‘ اظہر ..

ٹیم میں نیا ٹیلنٹ شامل ہو نے سے پرفارمنس میں بھی بہتری آرہی ہے‘ اظہر علی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء)گیرین شرٹس ون ڈے ٹیم کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ ، ٹیم میں نیا ٹیلنٹ شامل ہو نے سے پرفارمنس میں بھی بہتری آرہی ہے، امید ہے کہ اپنی رینکنگ بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی نوبت نہیں آئے گی، صرف مصباح الحق ہی نہیں بلکہ یونس خان نے بھی بڑی رہنمائی کی ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مصباح الحق جیسے سینئر اور قابل بھروسہ کھلاڑی کا خلا پْر کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا، میں نے یہ کوشش کی کہ بطور بیٹسمین اپنے کردار سے انصاف کروں اور جہاں تک ممکن ہوسکے قیادت کرتے ہوئے بھی ساتھی پلیئرز کی صلاحیتوں کو بہتر سے بہتر انداز میں استعمال میں لاؤں۔

خوشی کی بات ہے کہ اپنی اس کوشش میں کامیاب رہا تاہم ابھی بہت محنت اور مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ورلڈ کپ کے بعد ہمیں کپتان مصباح الحق سمیت سینئرز کی خدمات سے محروم ہونا پڑا، سعید اجمل کے ایکشن اور اصلاح کے بعد ردھم کا مسئلہ آگیا، محمد حفیظ کی بولنگ پاکستان کے پاس ایک اضافی ہتھیار ہوتی تھی جس کو کسی وقت بھی استعمال کیا جاسکتا تھا، اب ان کی خدمات بھی میسر نہیں ہیں، تاہم ان سب مسائل کے باوجود قومی ٹیم اور پاکستان کرکٹ کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی مہم جاری رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم میں نیا ٹیلنٹ شامل ہوا اور پرفارمنس میں بھی بہتری آرہی ہے، پوری امید ہے کہ اپنی رینکنگ بہتر بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور ورلڈ کپ کا کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی نوبت نہیں آئے گی، آئندہ چند سیریز میں ہی ہم کارکردگی میں تسلسل کی بنیاد پر اپنے اہداف کی جانب گامزن ہوں گے، ٹیم میں میچ ونرز موجود اور بتدریج اعتماد بھی حاصل کرتے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں مزید بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

اظہرعلی نے کہا کہ انگلش ٹیم کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی سے ہمارے کرکٹرز کو بڑا حوصلہ ملا ہے، ہمیں ایک طرح سے نفسیاتی برتری حاصل ہوگئی جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ون ڈے میچز میں بھی فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کرینگے۔ ا نہوں نے کہا کہ مجھے صرف مصباح الحق ہی نہیں بلکہ یونس خان کی بھی بڑی رہنمائی حاصل رہی، دونوں نے سینئرز کے طور پر ہمیشہ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایا ہے، ٹیسٹ کپتان کے ساتھ اس حوالے سے بھی زیادہ تعلق رہاکہ ہم ایک ہی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں، وہ میرے کھیل اور انداز کو سمجھتے اور اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے رہنمائی بھی کرتے ہیں، شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کیریئر کے اچھے برے وقت میں سپورٹ کیا اور حقیقی سینئر پلیئر کا کردار ادا کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم میں شامل چند بیٹسمین اچھی بولنگ بھی کرسکتے ہیں، اس پہلو پر غور ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کسے بطورکار آمد ہتھیار استعمال کیا جائے، ون ڈے کرکٹ میں اضافی بولر کی موجودگی ہمیشہ ہی سود مند ہوتی ہے، میں خود کوبھی ایک آپشن کے طور پر دیکھتا ہوں، جہاں ضرورت ہو بولنگ کرسکتا ہوں، کسی بیٹسمین کو پریشان کرنے کیلیے بھی بولنگ کی تبدیلی موثر ثابت ہوسکتی ہے، فی الحال شعیب ملک موجود ہیں، فٹ ہوگئے توحارث سہیل کی خدمات بھی میسر ہوں گی، میں نے بطور لیگ اسپنر کرکٹ کا آغاز کیا تھا، میرا تجربہ ٹیم کے کام آسکتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مقابلے ہمیشہ ہی نہ صرف دونوں ممالک بلکہ دنیا بھر کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں، اگر یو اے ای میں باہمی مقابلوں کا انعقاد ہوجائے تو بڑی اچھی بات ہوگی، ہمارے کھلاڑی تو روایتی حریف کیخلاف میچز کیلیے بے تاب ہیں، دیکھتے ہیں اس حوالے سے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

وقت اشاعت : 08/11/2015 - 17:16:11

اپنی رائے کا اظہار کریں