زرعی پیکج سے بروقت کاشتکاروں کو رقم نہ ملنے پر بیوروکریسی کے ہاتھوں کاشتکار پریشان
تازہ ترین : 1

زرعی پیکج سے بروقت کاشتکاروں کو رقم نہ ملنے پر بیوروکریسی کے ہاتھوں کاشتکار پریشان

بیوروکریسی اور پٹواری کلچر نے پنجاب کے مختلف اضلاع کے ہزاروں متاثرہ کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی کے لئے ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا

ٰفیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 نومبر۔2015ء) وزیراعظم کے ا علان کردہ زرعی پیکج سے بروقت کاشتکاروں کو رقم نہ ملنے پر بیوروکریسی کے ہاتھوں کاشتکار پریشان‘ بیوروکریسی اور پٹواری کلچر نے پنجاب کے مختلف اضلاع کے ہزاروں متاثرہ کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی کے لئے چھوٹے کاشتکاروں کو ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا۔ آن لائن کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ملک بھر میں ایسے کاشتکاروں کے لئے زرعی پیکج کا اعلان کیا تھا جن کی فصلیں خاص کر کپاس‘ چاول وغیرہ کی فصلیں متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے چھوٹے کاشتکاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

چنانچہ وزیراعظم نے ملک بھر کے کاشتکاروں کے لئے کسان پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کاشتکاروں کو فوری ادائیگی کا حکم دیا مگر اب جب متعلقہ کاشتکار جنہیں فی ایکڑ پانچ ہزار روپے ادائیگی کرنی ہے متعلقہ کاشتکار جب رقم لینے کے لئے متعلقہ اضلاع کے انتظامیہ جن میں اسسٹنٹ کمشنر ‘ تحصیلدار اور پٹواری کے پاس اپنے تمام اراضی کے کاغذات کی تصدیق کروا کر رقم لینے کے لئے پیش ہوتے ہیں تو انہیں مختلف حیلے بہانے سے ٹرخایا جا رہا ہے جبکہ سینکڑوں ایسے کاشتکاروں کو جن کے انگوٹھے کے نشان بائیو میٹرک سسٹم کے تحت دوبارہ نہیں ملتے انہیں نادرا کے پاس نیا شناختی کارڈ بنوانے کے لئے کہا جاتا ہے جبکہ بعض پٹواری اور محکمہ مال کا عملہ اس زرعی پیکج کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کاشتکاروں سے رشوت بھی وصول کر رہا ہے۔

کاشتکاروں نے آن لائن کو بتایا کہ ان کے شناختی کارڈ کمپیوٹرائزڈ ہیں اور اسی شناختی کارڈ سے ووٹ کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے مگر اب انتظامیہ کی طرف سے انگوٹھے کا نشان نہ ملنے کا بہانہ بنا کر انہیں ذلیل کیا جا رہا ہے۔ کاشتکاروں کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کے اعلان کردہ طریقہ کار کے مطابق کلیم کے تمام کاغذات کی باقاعدہ گاؤں کے نمبردار کے ساتھ ساتھ متعلقہ یونین کونسل کے سیکرٹری سے تصدیق کروا کر افسران کو پیش کئے جاتے ہیں مگر بیورو کریسی اور پٹواری کلچر جان بوجھ کر کوئی نا کوئی اعتراض لگا کر کاشتکاروں کو پریشان کر رہا ہے۔

اب تک کی اطلاع کے مطابق سب سے زیادہ شکایات فیصل آباد کے ڈویژن کے اضلاع چنیوٹ‘ جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سے موصول ہو رہی ہیں۔ واضع رہے کہ یہ رقم سیا سی بنیا دو ں پر بھی تقسیم کئے جا نے کی اطلا عات ہیں

وقت اشاعت : 08/11/2015 - 14:49:57

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں