افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر بہارہ کہو سے افغانستان 3 لاکھ ٹیلی ..
تازہ ترین : 1

افغان صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر بہارہ کہو سے افغانستان 3 لاکھ ٹیلی فون کالز کیے جانے کا انکشاف

افغانستان سے بھی بہارہ کہو کے مختلف نمبرز پر ٹیلی فون کالز پکڑی گئیں، بہارہ کہو کا سروے کرایا جا چکا ہے جس سے ثابت ہوا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے لوگ مارکیٹ سے زائد کرایہ دے کر یہاں مکانات کرائے پر حاصل کرتے ہیں جو اسلام آباد کی سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے ، حساس اداروں نے حکومت کو رپورٹ پیش کردی

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء ) متعبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کے اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے موقع پر اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بہارہ کہو سے افغانستان میں 3 لاکھ ٹیلی فون کالز کی گئیں اور افغانستان سے بھی بہارہ کہو کے مختلف نمبرز پر ٹیلی فون کالز پکڑی گئیں جبکہ حساس اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی ہے کہ بہارہ کہو کا ایک سروے کرایا جا چکا ہے جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے لوگ مارکیٹ سے زائد کرایہ دے کر یہاں مکانات کرائے پر حاصل کرتے ہیں جو اسلام آباد کی سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے ۔

تفصیلات کے مطابق معتبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی صدر منتخب ہونے کے بعد جب پاکستان کے پہلے دورے پر اسلام آباد آئے تو ان کی آمد سے قبل سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا گیا تھا تاہم اس دوران 3 لاکھ ایسی ٹیلی فون کالز ٹریس کی گئیں جو بہارہ کہو سے افغانستان اور افغانستان سے بہارہ کہو کی حدود میں کی گئیں اور ان ٹیلی فون کالز کے ٹریس ہونے کے بعد سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کردیا گیا تھا اورجس کے بعد بہارہ کہو کا ایک خصوصی سروے کرایا گیا اور بہارہ کہو سے کئی مشکوک دہشتگرد بھی پکڑے جا چکے ہیں ۔

ان ذرائع کے مطابق ایک ریٹائرڈ حکومتی شخصیت کو جب اغواء کیا گیاتو اسے چند دن کیلئے بہارہ کہو میں رکھا گیا تھا اور بہارہ کہو سے اسے قبائلی علاقوں میں منتقل کیا گیا ۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں بہارہ کہو اور ترنول کے علاقوں میں خصوصی سرچ کرنے کا بھی ایک اصولی فیصلہ کیا گیا اور جو بھی افرادغیر قانونی طریقے سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ اسلام آباد سے کچی آبادیوں کے خاتمے کیلئے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کیا جارہا ہے جس پر عنقریب مرحلہ وار عملدرآمد شروع کردیا جائے گا

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 23:11:44

اپنی رائے کا اظہار کریں