کراچی چیمبر اورآئی پی آر کے زیراہتمام وفاقی و صوبائی بجٹ پر بحث
تازہ ترین : 1

کراچی چیمبر اورآئی پی آر کے زیراہتمام وفاقی و صوبائی بجٹ پر بحث

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسڑی(کے سی سی آئی) اور انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی ریفارمز کے باہمی تعاون سے وفاقی اور صوبائی بجٹ پر پیر کو ہونے والی بحث میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت اب استحکام پردی جانے والی توجہ کومعاشی ترقی پرمرکوز کردینا چاہیئے۔اس موقع پر سابق وزیرتجارت ہمایوں اختر،سابق وزیرخزانہ و ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے این ایف سی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ڈاکٹر حفیظ پاشا نے نیشنل فائنانس کمیشن کے جاری حالیہ مذاکراتی دور پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ تصورات کے برعکس 9ویں این ایف سی میں کئی انتہائی اہم مسائل حل طلب ہیں جن میں 18ویں ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی کی تکمیل اور عمل درآمد،تقسیم کے عمل میں صوبائی حکومت کا مناسب حصہ ،نومنتخب مقامی حکومتوں کے فارمولے پر مبنی فنانسنگ،صوبائی حکومتوں کے قرضوں کے اختیارات،خاص طور وہ قرضے جوتجارتی اعتبار سے پاور سیکٹر کے منصوبے لئے لیئے جائیں،خدمات کی فراہمی بہتر بنانے،اخراجات کے معیارات کا قیام اوروفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی ٹیکس پر تجاوزات کے خاتمہ شامل ہیں۔

سابق وزیرتجارت ہمایوں اختر نے معیشت کا جائزہ لیتے ہوئے کہاکہ مالی سال2014-15کی کارکردگی ملی جلی تھی۔انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی اہم ہے کہ حکومت معیشت کو درپیش بڑے چیلنجز پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور اس کی پالیسیاں کیا ہیں۔ملکی معیشت7برس کی نچلی سطح پر ہے،خراب انفرااسٹرکچر،سماجی خسارہ بھی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنے کاباعث ہے،عوام پرٹیکسوں کابوجھ لاد دیا گیاہے،باالواسطہ لیویز اور ٹیکسوں میں اضافہ کر کے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پرناقابل برداشت حد تک ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیاجاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے مجموعی مالیاتی استحکام پر توجہ مرکوز کی ہے اس ضمن میں بعض مثبت بھی ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے افراط زر کی شرح اور کرنٹ اکاوٴنٹس خسارے میں بھی بتدریج کمی آئی ہے تاہم دیگرشعبوں میں معیشت کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔ہمایوں اختر نے کہاکہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اندازً2.5فیصد اضافہ ہوا ۔

زرعی شعبے کی پیدوار میں معمولی اضافہ ہوا تاہم گندم، مکئی اور گنے کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی جبکہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا نیزخدمات کے شعبے کی کارکردگی بہتر رہی۔ملک کو دو بڑی تشویش لاحق ہیں جن میں سیکیورٹی اور لوڈشیڈنگ نے اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کاباعث ہیں جبکہ نجی شعبے کو قرضوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔ان حقائق کے باعث نجی شعبے کی سرمایہ کاری ملک کی مجموعی پیدوارمیں9.7فیصد تک کم ہو گئی ہے جو شاید سب سے کم سطح ہے۔

عوامی سرمایہ کاری جی ڈی پی کا 3.4فیصد ہے اورمجموعی سرمایہ کاری ، جی ڈی پی شرح14.7فیصد کی معمولی سطح پر ہے۔معیشت کم ترقی کے جال میں پھنسی نظر آتی ہے اورنئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی خاص طور پر پریشان کن ہے۔انھوں نے کہا کہ ایف بی آر ایک بار پھرٹیکس ریونیو کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا ور2014-15کے لیے2,691ارب کے ہدف کے مقابلے محصولات کم رہیں گی۔

ابتدائی 10 ماہ کے دوران مجموعی پیداوارکی 24فیصد شرح کے مقابلے میں ریونیومیں 12.7فیصد اضافہ ہو ا حالانکہ اس سال بلواسطہ ٹیکسوں میں اندھا دھند اضافہ کیا گیا۔ ریونیو میں کمی کے باعث پی ایس ڈی پی کے اجراء میں کٹوتی ناگزیر ہے جیسا کہ 22مئی2015کو حکومت نے بجٹ کی رقم کا 60فیصد کم جاری کیا۔پاور سیکٹر نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔2014-15میں بجلی کی پیداوار میں معمولی اضافہ ہوا لیکن بجلی کی اصل فراہمی میں 2.3فیصد کمی واقع ہوئی۔

حکومت اس شعبے کے مسائل کے پائیدار حل میں ناکام رہی۔انہوں نے سماجی شعبے کی خراب حالت کو خطرناک قرار دیا جو شاید ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ خواندگی کی شرح2فیصد کمی کے ساتھ 60فیصد سے کم ہو کر 58فیصد تک آگئی ہے۔امیونائزیشن6فیصد کمی سے82فیصد سے کم ہو کر76فیصد ہو گئی ہے جبکہ بہترپانی کی سہولت کے ساتھ کنبے کی شرح 4پوائنٹس کی کمی سے30فیصد سے گر کر26فیصد ہو گئی ہے ،پرائمری میں داخلوں کی شرح برقرار رہی ہے بظاہر صوبوں کا کردار بڑھنے سے اس شعبے کو بہت نقصان اٹھانا پڑا۔

وفاقی بجٹ 2015-16امکانات کے سانچے میں پھنس گیاہے۔مالی خسارہ کوکم کرنا ترجیحات میں چاشامل ہونے کے باوجود پیدوار میں اضافہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ بجٹ غیر حقیقی مفروضوں پر تیار کیا گیاہے بجٹ میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا4.3فیصد ہدف مقرر کیا گیاہے دوسری جانب پی ایس ڈی پی میں29فیصد اضافے اورغیر آمدنی ٹیکس پر 14فیصد کمی کی اجازت دی گئی ہے جو حد سے زیادہ پرامید ہے۔

ایف بی آر3.1 کھرب کے محصولات کے لیے پُرعزم ہے جس میں اضافے کی ایسی شرح مقرر کی گئی ہے جو آج سے پہلے کبھی حاصل نہیں کی جاسکی ۔بجٹ میں موجودہ اخراجات میں10فیصدکمی لانے کا منصوبہ ہے۔واجب الادا قرض کے اثرات کی وجہ سے بچت کا یہ منصوبہ زیادہ کارگر ثابت نہیں ہو پائے گا۔ سبسڈی اور صوبائی سرپلس میں کمی کمزور مفروضات ہیں۔حکومت نے ڈسکوز (ڈی آئی ایس سی اوز) میں لائن لاسز کم کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جبکہ صوبے نویں این ایف سی کے لیے اعلیٰ معیارات قائم کرتے ہوئے اخراجات میں اضافہ کر رہے ہیں ۔

نیپرا پہلے ہی سبسڈی میں کمی کی صورت میں بجلی کے نرخون میں نمایاں اضافے کااعلان کر چکا ہے ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی نرخوں میں اضافے سے ایک بار پھرافراط زر کی شرح میں اضافہ ہو جائے گا۔کثیر تعداد میں ٹیکس تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس ریونیو کی مد میں253ارب روپے کی اضافی آمدنی کا تخمینہ لگایا گیاہے۔آئی پی آر غیر مکسوبہ آمدنی اور فوائد پر ٹیکس کا خیرمقدم کرتا ہے لیکن وہ وی آئی پیز کو حاصل ٹیکس مراعات واپس لینے، غیر ملکی آمدنی پر ٹیکس اور ٹرانسفر پرائسنگ کی جانچ کا نظام دیکھنا چاہیں گے۔

بنیادی غذائی اشیاء کی درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ رجعت پسندانہ اقدام ہے۔اسی طرح کھاد،تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدی ڈیوٹی میں کم سے کم ڈیوٹی کی اطلاق سے سی پی آئی میں اضافہ ہو گا۔بجٹ میں اعلان کرد ہ 16فیصدوفاقی پی ایس ڈی پی سنگین انفرا اسٹرکچر اور سماجی خسارے کے تناظر میں بہت ہی کم ہے۔ہرسال بجٹ میں پچھلے سال کے غیر استعمال فنڈز کو مدنظر رکھ کر پی ایس ڈی پی کے لئے مختص کئے جانے والے فنڈز کو مذید کم کردیا جاتا ہے۔

اگرچہ بجٹ کا سائز چھوٹا ہے لیکن منصوبوں کی تعداد بے پناہ اور ان کی تکمیل کے لیے شاندار رقوم کی ضرورت ہے۔منصوبوں کی تکمیل میں اوسطاً8سال درکار ہوں گے۔بعض شعبوں میں وسائل کی تقسیم میں کمی کی گئی ہے جن میں اعلیٰ تعلیم18فیصد،پانی و ایریگیشن منصوبے35فیصد،صحت25فیصد ،ایل این جی پاور منصوبوں کے لیے80فیصدمختص کیے گئے ہیں۔ہائیڈرومنصوبوں کے لیے بھی مختص رقم میں کمی کی گئی ہے جبکہ ہائی ویز کے لیے200ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ اور ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بجٹ میں بحث پر حصہ لیتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومتوں کے مشترکہ ترقیاتی اخراجات وفاقی پی ایس ڈی پی سے تجاو ز کر گئے ہیں۔ لہذامناسب ترقی کے منصوبوں پر صوبائی حکومتوں کی ترجیحات انتہائی اہم ہیں۔صرف طبعی بنیادی ڈھانچے پر توجہ دیناضروری نہیں ،خاص طور پربجلی و ایریگیشن لیکن بنیادی سہولیات کی فراہمی پر زیادہ توجہ دینا ہو گی جن میں صحت عامہ، صاف پانی اور اعلیٰ معیاری پرائمری تعلیم شامل ہیں۔

انہوں نے صوبائی حکومتوں کی ہچکچاہٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس اور شہری علاقوں میں غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس سے ریونیو کے وسیع وسائل ثابت ہوسکتے ہیں تاہم انہوں نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے خدمات پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی منظم کوششوں کو تسلیم کیا۔صوبائی ٹیکسوں کی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قومی مجموعی ٹیکس ریونیو میں صوبائی ٹیکس ریونیو کا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے جو فی الوقت7فیصد ہے تاہم اگلے5برس میں اسے15فیصد کی سطح پر لایاجائے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 23:01:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں