دینی مدارس کی کردار کشی گہری سازش ہے، دینی اداروں سے آڈٹ کا مطالبہ بد نیتی پر مبنی ..
تازہ ترین : 1

دینی مدارس کی کردار کشی گہری سازش ہے، دینی اداروں سے آڈٹ کا مطالبہ بد نیتی پر مبنی ہے ،ملک وقوم کی ترقی کے لئے یکساں نصاب تعلیم ضروری ہے، ،انقلاب کے لئے دینی حلقوں کو متحد ہونا پڑے گا

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کامدارس میڈیا ورکشاپ اور آئمہ و خطباء کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء )جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ دینی مدارس کی کردار کشی گہری سازش ہے، دینی اداروں سے آڈٹ کا مطالبہ بد نیتی پر مبنی ہے ،ملک وقوم کی ترقی کے لئے یکساں نصاب تعلیم ضروری ہے،دینی مدارس شرح خواندگی میں اضافے کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،لیکن سازش کے تحت بجٹ میں ایک روپیہ بھی مدارس کے لئے نہیں رکھا گیا،انقلاب کے لئے دینی حلقوں کو متحد ہونا پڑے گا،مدارس فاؤنڈیشن اور مولانا عبدالقدوس محمدی نے علماء و طلباء کو میڈیا اور جدید تعلیم سے روشناس کرا کے پوری دنیا کے لئے رول ماڈل پیش کر دیا،اب مدارس بارے منفی پروپیگنڈہ بند ہو جانا چاہیے۔

وہ پیرکو یہاں جامع مسجد محمدی شہزاد ٹاؤن میں منعقدہ مدارس میڈیا ورکشاپ اور ائمہ و خطباء کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر ر ہے تھے ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی اسلام آباد کے رہنما میاں اسلم ،مدارس فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا عبدالقدوس محمدی،مولانا عبدالجلیل ،مولانا یعقوب طارق،اخبار فروش فیڈریشن کے صدر چوہدری محمد شریف اور دیگر نے بھی خطاب کیا ،سراج الحق نے مدارس کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت مدارس کی امداد نہیں کرتی اس کیلئے مدارس سے آڈٹ کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں شرح خواندگی بڑھانے میں مدارس ناقابل فراموش کردار ادا کر رہے ہیں ،ان کی کردار کشی کے بجائے حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ،امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مدارس میں جدید تعلیم ایک خوش آئنداور قابل تقلید اقدام ہے ،اس پر میں مولانا عبدالقدوس محمدی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ،سراج الحق نے کہا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم فروعی اور چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کی قوت سے دشمن کو شکست سے دوچار کریں ۔

اس موقع پر پاکستان بھر سے آئے ہوئے مدارس میڈیا ورکشاپ کے شرکاء میں اسناد اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 22:16:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں