نئی ا ی سی ایل پالیسی تیار، منظوری کیلئے وزیر داخلہ کو بھیج دی گئی
تازہ ترین : 1

نئی ا ی سی ایل پالیسی تیار، منظوری کیلئے وزیر داخلہ کو بھیج دی گئی

کسی بھی ملزم کا نام زیادہ سے زیادہ دو سال تک ای سی ایل میں شامل کیا جا سکے گا، شامل ناموں کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا ، متعلقہ محکمے و ادارے سے ملزم کے کیس کی نوعیت پوچھی جائے گی، ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے نام غیر معینہ مدت تک ای سی ایل میں رہیں گے، وزارت داخلہ کی جانب سے تیار نئی مجوزہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ پالیسی کے نکات ، ذرائع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) وزارت داخلہ نے نئی ایگزٹ کنٹرول لسٹ پالیسی تیار کرلی جو منظوری کیلئے وزیر داخلہ کو بھیج دی گئی ہے، نئی پالیسی کے مطابق کسی بھی ملزم کا نام زیادہ سے زیادہ دو سال تک ای سی ایل میں شامل کیا جا سکے گا،ای سی ایل میں شامل ناموں کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا اور متعلقہ محکمے و ادارے سے ملزم کے کیس کی نوعیت پوچھی جائے گی، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث اور دہشت گردی کے ملزمان کے نام غیر معینہ مدت تک ای سی ایل میں رہیں گے۔

ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے نئی ایگزٹ کنٹرول لسٹ پالیسی تیار کی ہے، مجوزہ پالیسی کے مطابق جو بھی محکمہ یا ادارہ کسی ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل کرائے گا تو اسے وزارت داخلہ کو شواہد فراہم کرنا ہوں گے، اگر کسی ملزم کے خلاف فوری طور پر شواہد دستیاب نہیں ہوں گے تو اس کا نام عبوری طور پر ایک ماہ کیلئے ای سی ایل میں شامل کیا جائے گا،تاہم اس ایک ماہ کے اندر متعلقہ محکمے یا ادارے کو ملزم کے خلاف شواہد فراہم کرنا ہوں گے، شواہد کی عدم دستیابی پر نام ای سی ایل سے خارج کر دیا جائے گا،نئی پالیسی میں کسی بھی ملزم کا نام زیادہ سے زیادہ دو سال کیلئے ای سی ایل میں شامل کیا جا سکے گا تاہم ایک سال کے بعد ہر ملزم کے کیس پر نظرثانی کی جائے گی اور متعلقہ محکمے یا ادارے کو ملزم کے کیس کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی، اگر وزارت داخلہ مطمئن نہیں ہو گی تو نام ای سی ایل سے خارج کر دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق دہشت گردی، انتہا پسندی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد اور عناصر کے نام غیر معینہ مدت کیلئے لسٹ میں شامل کئے جائیں گے، نئی ای سی ایل پالیسی وزیر داخلہ کی منظوری کے ساتھ ہی نافذالعمل ہوگی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 19:30:30

اپنی رائے کا اظہار کریں