پنجاب کے بجٹ میں تعلیم وصحت کو اولین ترجیح دی گئی،میاں زاہد حسین
تازہ ترین : 1

پنجاب کے بجٹ میں تعلیم وصحت کو اولین ترجیح دی گئی،میاں زاہد حسین

وفاقی بجٹ میں خواتین نظرانداز، پنجاب نے با اختیار بنانے کو ترجیح دی ،کا ٹیج انڈسٹری کو فرو غ دیا جا ئے ،سابق وزیرسندھ

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پنجاب کا بجٹ پیش کر کے صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غو ث پاشا نے ملکی تاریخ میں صوبائی بجٹ پیش کرنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔انھوں نے ترقیاتی منصوبوں کے لئے چار سو ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کرنے سے ترقی کے نئے راستے کھلینگے جبکہ عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7.5 فیصد اور مزدوروں کی اجرت میں ایک ہزار کا اضافہ خوش آئند مگر مہنگائی کے مقابلہ میں کم ہے۔ترقیاتی پروگرام کی مد میں 15.9 فیصد کا اضافہ سے روزگار میں اضافہ ہو گاجبکہ صحت کے شعبہ کو کل بجٹ کا 14.5 فیصد، تعلیم کیلئے 27 فیصد مختص کرنا، نئی یونیورسٹیوں کے قیام اوردس لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا اعلان وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی عوام سے دوستی کا ثبوت ہے۔

وفاقی بجٹ میں خواتین نظراندازجبکہ پنجاب کے بجٹ میں انھیں با اختیار بنانے کو ترجیح دی جس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ توانائی کیلئے 258 ارب ، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے 15 فیصد کوٹہ اور عمر کی حد میں رعایت جبکہ پراپرٹی ٹیکس وا سٹامپ ڈیوٹی وغیرہ میں اضافہ نہ کرنا خوش آئند ہے۔

انسداد دہشت گردی اور زراعت کیلئے مختص رقم ناکافی اور تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کا فیصلہ درست ہے۔بجٹ میں جنوبی پنجاب کیلئے تین سو ارب روپے رکھے گئے ہیں جس سے اس خطہ کی ترقی ہو گی۔ ملتان میٹرو بس منصوبہ سے صرف لاہور اور راولپنڈی کوترجیح دینے کا ثاثر رائل ہو گا۔سولر پارک کیلئے ڈیڑھ سو ارب مختص کرنا، ایل این جی سے بجلی کی پیداوار اور ہنرمند افراد کو بلا سودی قرضے دینے کا فیصلہ تاریخ ساز اقدامات ہیں دوسرے صوبے بھی پیروی کریں۔

انھوں نے کہا کہ زراعت اور رابطہ سڑکوں اور ریونیو اتھارٹی کی کارکردگی کو مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف گزشتہ سال کے ترقیاتی بجٹ کے پونے تین سو ارب روپے میں سے خاطر خواہ رقم خرچ نہ ہونے کا نوٹس لیں اور امسال کے چار سو ارب روپے کی ایک ایک پائی کو شفاف اور معنیٰ خیزطریقہ سے خرچ کرنے کو یقینی بنائیں۔پنجاب بجٹ میں کا ٹیج انڈسڑی کو بھی فروٖ غ دینے کی ضرورت ہے ۔

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 18:30:35

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں