مظفرآباد‘ اربوں کی ادائیگیوں کے مرتکب 12 ایکسین اور 30 نائب مہتمم اکاؤنٹنٹ جنرل ..
تازہ ترین : 1

مظفرآباد‘ اربوں کی ادائیگیوں کے مرتکب 12 ایکسین اور 30 نائب مہتمم اکاؤنٹنٹ جنرل کے عملہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز

سیکرٹری ورکس اور اکاؤنٹنٹ جنرل اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔ سنسنی خیز انکشافات متوقع

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 15 جون۔2015ء) آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو نے اربوں کی ادائیگیوں کے مرتکب محکمہ تعمیرات کے 12 ایکسین اور 30 نائب مہتمم اکاؤنٹنٹ جنرل کے عملہ کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے ، سیکرٹری ورکس اور اکاؤنٹنٹ جنرل اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنرل) کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔ سنسنی خیز انکشافات متوقع، احتساب بیورو نے سلیکشن بورڈ نمبر3 اور نمبر2 کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔

چیئرمین احتساب بیورو راجا غضنفر علی خان نے کہا کہ تعلیمی رخصت کی منظوری کے بغیر اعلیٰ فنی تعلیمی قابلیت ظاہر کر کے ترقیابیاں پانے والوں کے خلاف قانون اور ضابطے کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، عوام الناس کو انصاف کی فراہمی ہمارے لئے عبادت کا درجہ رکھتی ہے ریاست میں کسی کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

محکمہ تعمیرات عامہ میں کام کرنے والے پبلک سروس کمیشن پاس پروفیشل انجینئرز نے احتساب کے رو برو درخواست دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سیکرٹریٹ ورکس اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس سے مجوزہ ریکارڈ سرٹیفکیٹس ، تعلیمی اسناد کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والے اہلکاران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے ، آزاد جموں و کشمیر احتساب بیورو کے ایماندار آفیسران کو انکوائری اور انوسٹیگشن تفویض کر دی گئی ہے پبلک سروس کمیشن پاس پروفیشنل انجینئرز نے انجینئر افتخار احمد خلجی جو کہ پروفیشنل انجینئرز ایسوسی ایشن آف کشمیر (PEAK) کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں کی وساطت سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ بے روز گار انجینئرز کی تعلیم کے حصول پر والدین اور قوم کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں وہ ڈگریاں تھامے روز گار کے حصول میں مارے مارے پھر رہے ہیں

جبکہ آسامیاں کرنٹ چارج زائد از چھ ماہ اورسیئروں کے ذریعے پر کی گئی ہیں جو کہ لاقانونیت کی انتہا ہے ، شکایت نمبر576 آف 2015 ء مورخہ 11 جون 2015 ء میں شاکی انجینئرز نے موقف اختیار کیا کہ 12 مہتمم 30 نائب مہتمم کی ترقیابیاں اس لئے مشکوک ہیں کہ انہوں نے بی ٹیک پاس ، بی ٹیک آنرز اور سول انجینئرنگ کی ڈگریاں اور ڈپلومہ جات بحیثیت باقاعدہ سول سرونٹس اوورسیئران تحت ضابطہ رخصت سٹڈی لیو کی منظوری کے بغیر حاصل کیں جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سول سرونٹ سائٹیوں پر تعمیراتی امور کی نگرانی کرے اور بلات بھی سائن کرے اور فنی تعلیمی قابلیت بھی بڑھا لے کیا یہ سب روحانی عمل کے ذریعے کیا گیا ایک شخص جسمانی طور پر دو مختلف جگہوں پر حاضر نہیں رہ سکتا۔ ٹیکنیکل پیشہ وار تعلیم کے لئے تعلیمی سالوں کے برابر رخصت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور اکثریت نے مجوزہ کورسز کے لئے متعلقہ منظوریاں نہ حاصل کی ہیں اس لئے ان کی ترقیابیاں بعد از اوورسیئر مشکوک ہو چکی ہیں، کرنٹ چارج نائب مہتمم زائد از ششماہ بھی ڈویژنل اکونٹس آفیسران وقت اور ایڈیشنل اکونٹنٹ جنرل (وقت) کی ملی بھگت سے پیمائشی کتب اور بلات پر غیر قانونی دستخط کرتے ہوئے اربوں کی ادائیگیوں میں ملوث ہیں ، AG کے عملہ کے ناجائز اثاثے ضبط کرتے ہوئے خزانہ سرکار میں جمع کروائے جائیں آزاد حکومت کو اگلے سات سالوں تک پاکستان سے اضافی فنڈز کے حصول کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔

مکینیکل تعلیم کے حامل ڈپلومہ ہولڈر کے ذریعے واٹر ٹینکس ، سیوریج اور واٹر سپلائی کے شعبہ کے بلات کی ادائیگیاں بھی کروائی جاتی رہیں۔ جن کے محاسبے کی ضرورت ہے۔ جس آفیسر نے تعلیم رکشہ مکینک کی حاصل کی ہو اس سے تعمیراتی امور کی ادائیگیاں کروانا بدترین لاقانونیت ہے۔ بعد از تحقیقات ملوث پائے جانے والے ملزمان کے خلاف ناجائز اثاثہ جات بنانے ، اسلامی جمہوریہ پاکستان سے غداری کرنے کی بھی تحقیقات کی جائیں-

وقت اشاعت : 15/06/2015 - 13:29:25

اپنی رائے کا اظہار کریں