پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے ، مولانا عبد الواسع
تازہ ترین : 1

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے ، مولانا عبد الواسع

کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء ) جمعیت علماء اسلام کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی و اپوزیشن لیڈر مولانا واسع نے کہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے ۔ سوموار کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے انتخاب کیلئے حکومت کے جانب سے من پسند شخص کو لانے اور دیگر کمیٹیوں میں اپوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے اپوزیشن کو 5کے بجائے صرف 2کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دینے کیخلاف پارلیمانی جماعت جمعیت علماء اسلام بلوچستان نے فیصلہ کے بعد کمیٹیوں کی اجلاس کا بائیکاٹ اعلان کرتے ہیں ۔

اٹھارویں ترمیم کے بر خلاف کمیٹیوں کی تشکیل پہلے سے مسترد کرچکے ہیں صوبائی حکومت اپنے کرپشن پر پردہ ڈالنے کیلئے پبلک کمیٹی اکاؤنٹس اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ۔ جمعیت علماء اسلام پارلیمانی جماعت کے اجلاس کے بعد کئے گئے فیصلے کے حوالے سے میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ میرٹ کے دعویدار نا م نہاد صوبائی حکومت نے روز اول سے یہی تہور ررہا ہے کہ حقائق چھپا کر حکمرانی کی جائے جہاں دیگر آئینی مسئلوں میں اپوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے دو سوچوں کیساتھ صوبے کو چلانے کی کوشش کرتی چلی آئی ہے اب یہ طریقہ مزید ناقابل برداشت ہوگیا ہے۔

حکومت میں شامل لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ حکومت میں بیٹھ کر چند لوگوں کے نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے معاملات چلا رہے ہیں ۔ بلوچستان صوبے کی عوام کا مشترکہ گھر ہے کسی بھی آشیرباد ی کو حق حاصل نہیں کہ عوام کی احساسات کے برعکس ان پر اپنے فیصلے مسلط کرے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے سامنے آج میرٹ حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ میرٹ کے شوشہ چھوڑ کر حکمرانی کرنیوالے حکومت آخر اگر حکومت اپنے قول فعل میں تضاد نہیں رکھتی تو اپوزیشن سے اکاؤنٹس کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیاں کیوں لی ہے یا لینے کی کوششوں میں مصروف ہے جوکہ آئینی حق تھا ۔

میرٹ کا شور مچانے والے حکومت نے اپنی کارکردگی کے حقائق سے از خود اٹھا لیا ہے ۔ پہلے تو کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے اپوزیشن کی مشاورت کو نظر انداز کردیا تھا ۔خصوصاً اب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کیلئے ایک حکومتی رکن کا انتخاب کی کوشش کے حقائق کو چھپانے کی کوشش کہ سوا کچھ نہیں ۔جس کا بنیادی مقصد اپنے کرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے اگر حکومت اپنے قول فعل میں مخلص ہے تو یقینا تمام اسٹیڈنگ کمیٹیاں سمیت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی از خود اپوزیشن کے حوالے کردی ۔

از خود عوام کے سامنے اپوزیشن سے کہتی کہ حکومت کا صوبے میں خرچ ہونیوالے تمام رقوم اور حقائق عوام کے سامنے آجاتے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی حکومت اپنے پاس رکھنے تللی ہوئی ہے ۔وہی پر اپوزیشن کو 5کے بجائے صرف 2کمیٹیوں کی چیئرمین شپ دی گئی ہے ۔جوکہ اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت اپنی ناقص کارکردگی سے بخوبی واقف ہے کارکردگی بے نقاب ہونے کی ڈر سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو سمیت دیگر کمیٹیاں اپنے پاس رکھ کر عوام کو بے خبر اور کرپشن چھپانے کیلئے راہ ہموار کررہی ہے ۔تاکہ اپوزیشن ان کے حقائق کو بے نقاب نہ کرسکے ۔

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 22:56:01

اپنی رائے کا اظہار کریں