`دیربالا، بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کیلئے جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ..
تازہ ترین : 1

`دیربالا، بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کیلئے جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل چیئرمینوں کا انتخابات مکمل کرلیا گیا`

دیربالا(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے کیلئے جماعت اسلامی نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل چیئرمینوں کا انتخابات گذشتہ شب شوری کے طویل اجلاس میں مکمل کرلیا گیاتاہم اہم تحصیل دیر چیئرمین شپ کی نامزدگی اور جماعت اسلامی کے ضلعی جنرل سیکرٹری کو تحصیل کیلئے نامزد نہ کرنے کے باعث جماعت اسلامی کے اندر مشکلات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔

جس سے جماعت کے اندر اختلافات سر اٹھانے کا قومی خدشہ ہے ۔گذشہ روز جماعت اسلامی کے 22رکنی شور ی نے جمعہ کے روز ڈھائی بجے سہ پہر اجلاس شروع کیا تاکہ ضلع اور چار تحصیلوں کیلئے چیرمینوں کا انتخاب مکمل کرسکے۔چونکہ شوری نے ڈسٹرکٹ کونسل چیرمین کیلئے جماعت اسلامی کے ضلعی آمیر صاحبزادہ فصیح اللہ کو شوری ممبران کی طویل مشاورت کے بعد چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیلئے نامزد کردیا جبکہ تحصیل واڑی ،براول اور کلکوٹ کیلئے بھی نامزدگی احسن طریقے سے مکمل ہوا، حسین آحمد کو تحصیل واڑی چیرمین،انکے ساتھ نائب چیرمین مشتاق آحمد جبکہ براول کیلئے حاجی جہاں عالم سابق تحصیل ناظم اور نائب تحصیل نظامت کیلئے عزیز الحق کو جبکہ تحصیل کلکوٹ کیلئے آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے تحصیل کونسلر ملک تاجبر خان کو تحصیل کونسل چیرمین کیلئے نامزد کیا گیا ۔

جبکہ جماعت ذرائع کے مطابق شوری میں سب سے سخت مقابلہ ضلعی ہیڈکوارٹر دیر کے تحصیل کونسل دیر کیلئے دو امیدواروں ضلعی جنرل سیکرٹری میرمخزن الدین اور میاں رستم یوسف کے درمیان ہوا اس لئے شور ی کا اجلاس ہفتے کی شب رات گئے تک جاری رہا۔ذرائع کے مطابق چونکہ مخزن الدین پہلے سے فیورٹ قرار دیا جارہا تھا تو دوسری جانب میاں رستم یوسف جو پہلے تحصیل کونسل کا نائب ناظم رہ چکا ہے اور رکن جماعت ہے تو اس لئے شوری نے باقی تین تحصیلوں واڑی ،کلکوٹ اور براول کا جلدی اور کھلی رائے شماری کے ذریعے مکمل ہوا ۔

لیکن صرف تحصیل دیر کیلئے شوری ممبران کا رائے شماری خفیہ طریقے سے کیا گیا۔ جس میں میرمخزن الدین کو9ووٹ جبکہ میاں رستم یوسف کو شوری کے13 ممبران کا ووٹ حاصل ہوا۔ جبکہ ضلعی چیرمین شپ کیلئے کھلی رائے شماری میں آمیرجماعت اسلامی صاحبزادہ فصیح اللہ کو13جبکہ انکے مدمقابل امیدوار حنیف اللہ ایڈوکیٹ کو بھی9ممبران کا ووٹ ملا۔ اس لئے جماعت اسلامی کے بعض حلقوں میں یہ شک پیداہوا کہ یہ پہلے سے طے شدہ فیصلہ تھا ۔

اور اسی وجہ سے میرمخزن الدین بھی نالاں نظرآرہا ہے کیونکہ انکا جماعت اسلامی کیلئے پچھلے گیارہ سالوں میں خدمات ہے اور جمیعت کے ناظم کی حیثیت سے بھی انکے خدمات قابل قدر رہے ہیں ، تاہم ضلعی نائب چیرمین سمیت دیراور کلکوٹ کیلئے بھی نائب چیرمینوں کا انتخاب کچھ دنوں کیلئے اور ضلعی اور تحصیل کونسلوں کے شیڈول جاری ہونے تک موخرکردیا گیا تاکہ اس دوران اختلافات کو ختم کیا جاسکے۔

جماعت اسلامی ذرائع سے معلوم ہوا ہے اگر ضلعی اور تحصیل چیرمینوں کے انتخاب 22رکنی شوری ممبران کے بجائے جماعت کے ضلعی اراکین جن کی تعداد تقریبا 560کے قریب ہے اور انکے ساتھ ساتھ نومنتخب ضلعی،تحصیل کونسلروں کی مشاورت سے کیا جاتا تو زیادہ مفید اور بہترطریقہ ہوتا جس میں کسی کوبھی شکایت کا موقع بھی نہ ملتا اور جماعت کا نظم بھی برقرار رہتا۔`

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 21:22:07

اپنی رائے کا اظہار کریں