`تحریک صراط مستقیم پاکستان کے زیرِ اہتمام ’تحفظ ناموسِ رسالت سیمینار“ کا انعقاد`

`تحریک صراط مستقیم پاکستان کے زیرِ اہتمام ’تحفظ ناموسِ رسالت سیمینار“ کا انعقاد`

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) تحریک صراط مستقیم پاکستان کے زیرِ اہتمام لاہور پریس کلب میں قانون ناموسِ رسالت 295/c کے خلاف ہونے والی حالیہ سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ”تحفظ ناموسِ رسالت سیمینار“ منعقد کیا گیا جس کی صدارت سربراہ تحریک صراط مستقیم پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کی جبکہ اس موقع پر سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری، جسٹس (ر)میاں نذیر اختر، صاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی و دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے سیمینار کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ قانون ناموس رسالت 295c قرآنی اور ایمانی قانون ہے پاکستان کی پارلیمنٹ کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اس نے اس قرآنی قانون کو پاکستانی قانون بھی بنا دیا ہے یہ قانون اس ملک کا قانون بعد میں ہے لیکن مالک الملک جل جلالہ کا قانون پہلے ہے یہ جنرل ضیاء الحق کا ضیائی قانون نہیں بلکہ خدائی اور مصطفائی قانون ہے ۔

ہم آج کے سیمینار میں واضح اعلان کرتے ہیں کہ 295c کو چھیڑنے والے کو ہر گز چھوڑا نہیں جائے گا اگر 295c کی تبدیلی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو ہم پارلیمنٹ کا گھراوٴ کریں گے ۔295c میں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے ارکان اسمبلی کا ان کے حلقوں میں داخلہ بند کر دیا جائے گا حکمران 295c کو بدلنے سے باز رہیں ورنہ 295c تو نہیں بدلے گا مگر حکمران بدل جائیں گے۔

ہم قانونِ ناموس رسالت 295/c میں کسی رد و بدل کو برداشت نہیں کریں گے۔ 295/c میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کے عاشقان رسول ﷺ تحفظ ناموسِ رسالت کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔سیمینار عالمی سطح پر 295/c کے خلاف جاری سازشوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ایک عرصہ سے عالمی سازشوں کے تناظر میں پاکستانی حکمران 295/c میں ترمیم کے لئے خفیہ طور پر سر گرم ہیں ۔

اہل سنت کی تمام جماعتیں کسی بھی ایسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں غازی ممتاز حسین قادری نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا چنانچہ غازی ممتاز حسین قادری نے گرفتاری کے فورا بعداور عدالت میں بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ سابق گورنر کو توہین رسالت کی وجہ سے قتل کیا اسی لئے راولپنڈی ہائی کورٹ نے غازی ممتاز حسین قادری کی دہشت گردی والی سزا ختم کر دی ہے اب یہ کیس سپریم کورٹ میں ہے یہ کیس کیونکہ عام دنیاوی مقدمات سے ہزار گنا اہم ہے اور ناموس رسالت اور شریعت اسلامیہ کے بہت ہی حساس مسائل سے ہے چنانچہ اس کیس کی سماعت فل کورٹ میں کی جائے تاکہ شریعت اسلامیہ کی درست تشریح و تعبیر کی روشنی میں غازی ممتاز حسین قادری کے کیس کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے اس کیس میں وکلاء کے علاوہ علماء اکرام کو بھی سنا جائے ۔

ہم آج کے سیمینار میں مغرب کی آزادی اظہار کی آڑ میں کی جانے والی مسلسل گستاخانہ جسارتوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں ہم تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں ”لبیک یا رسول اللہﷺ مہم“ کے دوران بلوچستان اور آزاد کشمیر اور پنجاب میں بڑے اجتماعات منعقد کر چکے جس کے دوران لاکھوں لوگوں سے ناموس رسالت پر کٹ مرنے کا حلف لیا گیاہے ۔ہم یہ تحریک مزید منظم کریں گے اور فائنل راوٴنڈ میں 8 اکتوبر کو فیصل آباد کی تاریخی جلسہ گاہ دھوبی گھاٹ میں تاریخ ساز ”لبیک یا رسول اللہﷺ کانفرنس“ کا انعقاد کریں گے ۔

جس میں لاکھوں عاشقان رسول ﷺ شریک ہو کر ناموس رسالت کے خلاف ہونے والی اندرونی ، بیرونی شازشوں کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔اس سلسلہ میں دیگر تنظیمات اہلسنت اور علماء و مشائخ سے مشاورت کے بعد جلد ہی مزید لائحہ عمل پیش کر دیا جائے گا۔سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ تحریک صراط پاکستان ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ،سربراہ سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری ،جسٹس نذیر اختر ،سربراہ تحفظ ناموس رسالت محاذصاحبزادہ رضائے مصطفی نقشبندی و دیگر مقررین نے کہا کہ ناموس رسالت کا معاملے مسلمان کے لئے جان سے بھی زیادہ عزیز ہے ۔

ناموس رسالت پر ہونے والی اندرونی و بیرونی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم ہر وقت تیار ہیں ۔ناموس مصطفی کے مسئلہ پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں ،تحفظ ناموس رسالت کیلئے جان کا نذرانہ دینے کے لئے بھی تیار ہیں ۔اس موقع پر سید ضیاء الاسلام شاہ گیلانی ،صاحبزادہ محمد داوٴد رضوی ، سید مختار اشرف رضوی ، سید محمد خرم ریاض شاہ ، حاجی محمد شفیق کیلانی ، قاضی محمود احمد قادری سجادہ نشین آستانہ عالیہ اعوان شریف ،حضرت پیر محمد اقبال ہمدمی ،حضرت پیر سید محمد حامد علی شاہ ،مفتی تصدق حسین، محمد عارف اعوان ایڈووکیٹ ، محمد مبشر ایڈووکیٹ ،صلاح الدین کھرل ایڈووکیٹ سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی ۔ `

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 19:50:31

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں