اقتصادی امور ڈویژن کا این جی اوز کو دستیاب فنڈز پر کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ
تازہ ترین : 1

اقتصادی امور ڈویژن کا این جی اوز کو دستیاب فنڈز پر کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ

حکومت کے پاس ملک میں آنے والی رقوم کی مکمل تصویر ہونی چاہئے چاہے ‘ سابق سیکرٹری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) نے بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں (آئی این جی اوز) کو دستیاب فنڈز پر کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ای اے ڈی کو پاکستان میں کام کرنے والی تمام آئی این جی اوز سے درکار دستاویزات کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ان کی فنڈنگ کے ذرائع اور مستقبل میں ان کو خرچ کیے جانے پر نظر رکھنا چاہتی ہے۔

ای اے ڈی کو درکار بارہ دستاویزات جیسا کہ اس کی آفیشل ویب سائٹ سے عندیہ ملتا ہے، ان میں سے نصف ان این جی اوز کے مالیاتی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں۔ایک سابق وفاقی سیکرٹری نے بتایا کہ بنیادی مسئلہ آف بجٹ گرانٹس ہیں جو دیگر حکومتیں پاکستان کو فراہم کرتی ہیں۔آن بجٹ گرانٹس کے برعکس جن کی رقوم حکومتی چینلز کے راستے گزرتی ہیں، آف بجٹس گرانٹس دیگر ممالک اپنے منتخب کردہ اداروں کے ذریعے اپنی پسند کے پراجیکٹس پر خرچ کرتے ہیں۔

سابق سیکرٹری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس ملک میں آنے والی رقوم کی مکمل تصویر ہونی چاہئے چاہے وہ آف بجٹ گرانٹس ہی کیوں نہ ہو، تاہم وہ تسلیم کرتے ہیں ان رقوم کی آمد کے راستے کو ری اسٹرکچر کرنا مشکل ثابت ہوگا لہذا بین الاقوامی ڈونرز پر پابندی لگانے کا سوچا گیا ان شرائط کو عائد کرنے کے پیچھے یہ خیال ہے کہ حکومت جس حد تک ہوسکے آئی این جی اوز کے آپریشنز پر کنٹرول حاصل کرسکے۔

سابق سیکرٹری کے مطابق کوئی آئی این جی او اپنے مخصوص مینڈیٹ سے تجاوز کرے تو حکومت کے پاس اس کے این او سی منسوخ کرنے کا اختیار موجود ہے ۔

حکومت کی جانب سے سیو دی چلڈرن کے خلاف حالیہ اچانک کارروائی کے حوالے سے سوال پر پاکستان ہیومینٹرین فورم (پی ایچ ایف) کی ایک پالیسی مشیر نرگس خان نے بتایا کہ فورم کو کے پاس کسی این جی او کے خلاف حکومتی فیصلوں سے متعلق سرکاری تصدیق موصول نہیں ہوئی۔

پی ایچ ایف پاکستان میں کام کرنے والی پچاس سے زائد آئی این جی اوز کا نمائندہ فورم ہے اور وہ بحران جیسے سیلاب وغیرہ میں انسانی ریلیف کے اقدامات کے حوالے سے تعاون کرتا ہے۔نرگس خان کے مطابق ہوسکتا ہے کہ آئی این جی او کی رجسٹریشن کا عمل سست اور اس میں شفافیت کی کمی ہو، پی ایچ ایف کو انسانیت کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور دیگر کارروائیوں پر پڑنے والے اثرات پر تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی معاونت حکومت کے مدعو کیے جانے پر فراہم کی جاتی ہے اور پاکستان کے سب سے مظلوم افراد تک پہنچتی ہے جو آئی این جی اوز کے خلاف حالیہ فضاء سے متاثر ہوسکتی ہے۔ای اے ڈی کو درکار دستاویزات کے حوالے سے سوال پر نرگس خان نے کہا کہ آئی این جی اوز پہلے ہی حکومت کو تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرچکی ہیں پی ایچ ایف آئی این جی اوز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسیوں کی تشکیل اوران پر عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور ہم تعاون میں اضافے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی اور شفاف شراکت داری کے خواہشمند ہیں۔

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 14:37:38

اپنی رائے کا اظہار کریں