جموں کے مسلمانوں کی بے دخلی پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ، میر واعظ عمر فاروق
تازہ ترین : 1

جموں کے مسلمانوں کی بے دخلی پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ، میر واعظ عمر فاروق

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء) کل جماعتی حریت کانفرنس ” ع “ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعے جموں کے مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور جنگلاتی اراضی خالی کرنے کی آڑ میں ان کو اپنی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کرنے کے مذموم منصوبوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں فوری بند نہیں کیا اور بھاجپا و آر ایس ایس کے جمون میں مسلمان مخالف منصوبوں کو نہ روکا گیا تو کشمیری مسلمان اس کے خلاف خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتے ۔

جامع مسجد سرینگر میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق نے جموں کے مسلمانوں کی قربانیوں کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ نہ صرف ان کے دینی ، سیاسی اور ملی رشتے ہیں بلکہ ریاست کے ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہونے کے ناطے اس آڑے وقت میں مسلمانان جموں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا بلک کشمیری مسلمان ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ جب سے دلی میں بی جے پی اور کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی سرکار بنی ہے جموں کے مسلمانون کے خلاف فرقہ پرست قوتوں کی ایما پر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت دبایا جا رہا ہے جموں کے مسلمانوں کو گھروں سے بے دخل اور ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے 1947 جیسی صورت حال پیدا کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ ترکوٹانگر ، بٹھنڈی اور گریٹر کیلاش جیسی سرکاری جنگلاتی اراضی پر کالونیاں تعمیر کی گئی ہیں حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے روشنی ایکٹ کے تحت لاکھوں کنال اراضی پر ناجائز اور غیر قانونی قبضے کو چنس سکوں کے عوض جائز بنایا گیا ہے ۔

اکھنور سے جموں تک سرکاری اراضی پر چلنے والی کنال پر ایک مخصوص طبقے نے قبضہ کر رکھا ہے اور اس کو خالی کرنے کے بجائے مسلمانوں کو جبراً اپنی زمینوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے میر واعظ نے کہا کہ ابھی حال ہی میں جموں اور خطہ چناب سدے کچھ وفود میرے پاس آئے جنہوں نے انکشاف کیا کہ ریاتی سرکار نے یکطرفہ کارروائی کے تحت جموں ، سانبہ ، کٹھوعہ ، ادھمپور ، راجوری ، پونچوھ ، ڈوڈہ اور بھدرواہ سے مسلم افسران کا تبادلہ کر کے ان علاقوں من پسند فرقہ پرست افسروں کو تعینات کیا گیا ہے جو ڈرا دھمکا کر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اگر جموں کے مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو تمام تحریک پسند جماعتیں ایک موثر حکمت عملی کے ساتھ ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے عملی طور پر میدان میں آجائیں گی ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 13:06:49

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں