مقبوضہ بیت المقدس سے اظہار یکجہتی کیلئے جرمنی کے مختلف شہروں میں مظاہروں، ریلیوں ..
تازہ ترین : 1

مقبوضہ بیت المقدس سے اظہار یکجہتی کیلئے جرمنی کے مختلف شہروں میں مظاہروں، ریلیوں کا انعقاد

اسرائیلی ریشہ دوانیوں کیخلاف شدید نعرے بازی

برلن (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 جون۔2015ء)جرمنی کے مختلف شہروں میں فلسطینی تارکین وطن اور انسانی حقوق تنظیموں نے مقبوضہ بیت المقدس کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالیں اور مظاہرے کئے جن میں اسرائیلی ریشہ دوانیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔اطلاعات کے مطابق جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں میں ہفتہ یکجہتی بیت المقدس مہم نہایت کامیابی سے جاری ہے اسی مہم کے تحت گزشتہ روز جرمنی کے شہر ہامبرگ، ڈورتمونڈ اور دارالحکومت برلن سمیت کئی دوسرے مقامات پر فلسطینی تارکین وطن نے ریلیاں اور جلسے جلوس منعقد کئے ۔

جرمنی میں فلسطینی سوسائٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں ہفتہ القدس مہم چلانے کا مقصد بیت المقدس میں یہودی آباد کاری، فلسطینیوں کیخلاف جاری نسلی امتیاز پرمبنی غیر انسانی سلوک، بیت المقدس کی فلسطینی آبادی کے شہری حقوق کا استحصال اور 1967 ء کے بعد سے فلسطینی آبادی کے خلاف جاری صہیونی مظالم کو اجاگر کرنا اور یورپی ممالک کے عوام کو ان مظالم سے آگاہ کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس کے تین چوتھائی فلسطینی اسرائیلی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے باعث غربت کا سامنا کررہے ہیں۔ فلسطینیوں کو بنیادی انسانی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے، انہیں تعلیم، صحت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں یہودیوں کے مساوی حقوق میسرنہیں بلکہ فلسطینیوں کو تیسرے اور چوتھے درجے کی مخلوق سمجھا جاتا ہے، مزید ستم یہ کہ فلسطینیوں کی املاک کو غیرقانونی قرار دیکران کی مسماری کا ظالمانہ سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔

جرمنی میں فلسطینی سماجی کارکن سہیل ابو شمالہ نے بیت المقدس میں صہیونی ریاست کے مظالم پرعالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے فلسطینی باشندوں کے بنیادی حقوق چھیننے میں عالمی برادری کے بڑے بدمعاش ممالک بھی برابرکے قصور وار ہیں جو صہیونی ریاست کے جرائم پر دانستہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ یہ ممالک ایک طرف انسانی حقوق، جمہوری اور شہری آزادیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور دوسری طرف انہیں فلسطینیوں پر ڈھائے جانیوالے منظم اسرائیلی مظالم سرے سے دکھائی بھی نہیں دیتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 13/06/2015 - 12:27:09

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں