او جی ڈی سی ایل میں بلوچوں نظر انداز کیا جا رہا ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی
تازہ ترین : 1

او جی ڈی سی ایل میں بلوچوں نظر انداز کیا جا رہا ہے، بلوچستان نیشنل پارٹی

کوہلو میں ڈی ڈی او کی جانب سے 116 غیر قانونی اساتذہ کی تعیناتی اور محکمہ ایکسائز کے ملازمین جو عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں ان کے مسائل حل کئے جائیں،بیان

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ او جی ڈی سی ایل میں بلوچستان کے بلوچوں نظر انداز کیا جا رہا ہے کوہلو میں ڈی ڈی او کی جانب سے 116 غیر قانونی اساتذہ کی تعیناتی اور محکمہ ایکسائز کے ملازمین جو عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں ان کے مسائل حل کئے جائیں پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ایس ایس ٹی کی نشستوں پر کامیابی سے قبل اساتذہ کے کاغذات کی تصدیق کے عمل نے امیدواروں کو پریشانیوں سے دوچار کر دیا ہے جو قابل مذمت عمل ہے بیان میں کہا گیا کہ او جی ڈی سی ایل میں بلوچ باصلاحیت نوجوانوں کو روزگار نہ دینا اور اپنی من مانیوں اور میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بلوچ اور بلوچستان کے کوٹے پر عملدرآمد نہ کرنا اور بلوچستان سے وافر مقدار میں گیس دیگر صوبوں کو فراہم کی جا رہی ہے جو ہماری سرزمین کے وسائل ہیں اس کے باوجود اس ادارے کا بلوچوں کا ساتھ ناانصافیوں کرنا کسی بھی صورت قابل برداشت عمل نہیں انہی وجوہات کی بناء پر احساس محرومی ، ناانصافیاں بڑھتی جا رہی ہیں ایسی روش کو فوری طو رپر ختم کیا جائے بلوچستان کے بے روزگار باصلاحیت نوجوانوں کو فوری طور پر ملازمتوں پر بھرتی کیا جائے بیان میں کہا گیا ہے کہ کوہلو میں محکمہ تعلیم میں 2007 سے اب تک انٹرویوز اور ٹیسٹ نہیں ہوئے اس کے باوجود ڈی ڈی او افسر نے غیر قانونی طریقے سے 106 پوسٹوں پر اساتذہ تعینات کئے ہیں جو اس بات کی خود نفی کرتے ہیں کہ ایک طرف صوبائی حکومت تعلیمی انقلاب کے دعوے کرتے نہیں تھکتی جبکہ دوسری جانب ایسے غیر قانونی اور سیاسی جیالوں کو نوازا جا رہا ہے جبکہ ضلع میں جونیئر افسران کو سینئر باصلاحیت افسران پر ترجیح دی جا رہی ہے انہی وجوہات کی وجہ سے تعلیمی نظام تباہی کے دہانے تک پہنچ رہا ہے فوری طور پر حکام بالا ان بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی ڈی او کے خلاف کارروائی بھی کریں بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ ایکسائز کے ملازمین اپنی اپ گریڈیشن کے لئے عرصہ دراز سے سراپا احتجاج ہیں اور ان کے مطالبات بھی قانونی اور جائز ہیں کہ میرٹ کے بنیاد پر ان کی اپ گریڈیشن کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان میں پائی جانے والی بے چینی فوری طور پر ختم ہو سکے بیان میں کہا گیا ہے کہ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے ایس ایس ٹی پوسٹوں پر تعیناتی کے حوالے سے جو تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل رکھا گیا ہے اتنے قلیل مدت میں امیدواران بلوچستان یونیورسٹی ، انٹرمیڈیٹ بورڈ میں مشکلات کا شکار ہیں ایک تو ان اداروں میں فیسیں بھی لی جا رہی ہیں ہونا تو یہ چاہئے تا کہ کامیاب ہونے والے امیدواروں کے کاغذات کی متعلقہ اداروں سے تصدیق کرائی جاتی چند دنوں میں ایسا ہونا ممکن نہیں کہ بلوچستان بھر کے ایس ایس ٹی کی نشستوں پر تعیناتی کیلئے لوگ فارم جمع کروا سکیں پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر کاغذات جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے اور یہ شرط صرف کامیابی امیدواروں پر لاگو کیا جائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 23:13:08

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں