56 ہزار پولنگ اسٹیشنزمیں 20 ہزار کے فارم 15 غائب ، 6 ہزار 870 انتخابی تھیلے کھلے ہوئے ..
تازہ ترین : 1

56 ہزار پولنگ اسٹیشنزمیں 20 ہزار کے فارم 15 غائب ، 6 ہزار 870 انتخابی تھیلے کھلے ہوئے تھے،عمران خان

دھاندلی میں الیکشن کمیشن بھی ملوث تھا ، 149 میں اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے تھے،کیپٹن صفدر کے حلقے میں 16 فیصد، خرم دستگیر کے حلقے میں 8 فیصد‘ سعد رفیق کیلئے ساٹھ فیصد اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے تین سوالات میں سے دو کے جوابات مل چکے ہیں یہ سب دھاندلی کمیشن کی وجہ سے سامنے آئی ہے، کمیشن کا فیصلہ قبول کریں گے،پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ 56 ہزار پولنگ اسٹیشنوں میں 20 ہزار کے فارم 15 غائب ہیں 6 ہزار 870 انتخابی تھیلے کھلے ہوئے تھے۔ 149 میں اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے تھے۔ کیپٹن (ر) صفدر کے حلقے میں 16 فیصد اضافی بیلٹ پیپرز خرم دستگیر کے حلقے میں 8 فیصد‘ این اے 125 میں خواجہ سعد رفیق کیلئے ساٹھ فیصد اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے ‘ جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کے حوالے سے تین سوالات میں سے دو کے جوابات تو مل چکے ہیں یہ سب دھاندلی کمیشن کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا، عمران خان نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے 4 مرتبہ اپنا پلان تبدیل کیا۔ دھاندلی میں الیکشن کمیشن بھی ملوث تھا خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں ڈھائی لاکھ بیلٹ پیپرز کا ریکارڈ تک موجود نہیں ہے۔ دھاندلیوں کے ثبوت تھیلوں میں سے ملے گئے ہیں۔ ایک کروڑ سترہ لاکھ بیلٹ پیپرز کا کہیں ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

چاہتا ہوں کہ آئندہ انتخابات شفاف اور جمہوریت مضبوط ہو حصول انصاف کیلئے جہانگیر ترین نے دو کروڑ روپے خرچ کئے ووٹوں کی تصدیق کا ایک طریقہ فارم 15 تھا انگوٹھے نہیں، تیسری چیز یو ایس ڈی پی نے نظام آر ایم ایس دیا تھا اور ڈیٹا آپریٹرز دیئے تھے چار ملین ڈالر خرچ کئے گئے آنے والے رزلٹ کو سکین کرکے بھجوا ئے جانے تھے۔ جیسے ہی میاں نواز شریف گیارہ بج کر بیس منٹ پر تقریر کرتے ہیں اس کے بعد یہ سسٹم ہی بند کردیا جاتا ہے ابھی تک تحقیقات نہیں کی گئی کہ کیوں بند کیا گیا۔

رزلٹ سکین نہیں ہوسکے تمام سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ دھاندلی ہوئی آصف زرداری اور نواز شریف تک کہہ رہے ہیں 126 دن کا دھرنا دیا تھا وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ورنہ یہ دن ہی نہ آتا۔ چار حلقے حاہال نہیں کھل سکتے تھے پانچ سال گزار جاتے۔ جوڈیشل کمیشن کی وجہ سے یہ سب کچھ سامنے آیا پہلی بار صحیح تحقیقات ہورہی ہیں کمیشن کے تین اغراض و مقصد تھے۔

کیا انتخابات غیر جانبدار‘ شفاف اور منصفانہ تھا۔ فارم 15 کے بعد اس سوال کا جواب تو مل گیا، قانون کے مطابق فارم پندرہ دینا ضروری تھا ۔ کیا اس سے کوئی متاثر ہوا تھا۔ کیا یہ الیکشن تھا عوام کا مینڈیٹ اس سے متاثر ہوا تھا کمیشن نے یہ فیصلہ کرنا تھا ہم بھی اس پر چھو ڑتے ہیں لوگوں کو کنفیوز اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے ہم ثبوت دیں گے کہ کس کو فائدہ ہوا ہے اور فارم پندرہ کا کس کو فائدہ پہنچے گا کمیشن کا فیصلہ قبول کریں گے۔

چھ ہزار 877 تھیلے کھلے ہوئے تھے ۔ 35 ایسے حلقے تھے جہاں مسترد شدہ ووٹ بھی سامنے آئے۔ تینوں حلقوں میں سولہ فیصد سے زائد ووٹس پہنچائے گئے۔ خواجہ سعد رفیق کے حلقے سے 75 فیصد فارم پندرہ غائب ہیں فارم پندرہ کے بغیر فارم 14 صحیح طریقے سے نہیں بن سکتا۔ حمزہ شہباز کے حلقے میں بھی اضافی بیلٹ پپپرز پہنچائے گئے۔ ان کے حلقے میں 62 ہزار زائد ووٹ ڈالے گئے ۔ بیس ہزار فارم پندرہ گم ہونے کا مطالبہ ہے کہ ڈھائی کروڑ بیلٹ پیپرز غائب ہیں ہم نے جوڈیشل کمیشن کو تمام تر ثبوت پیش کردیئے ہیں۔ نجم سیٹھی نے اپنی بھانجی کو ایم پی اے اور خود چیئرمین پی سی بی بننا تھا اس لئے اس نے 35 پنگچر لگائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 22:32:37

اپنی رائے کا اظہار کریں