پاکستان ایڈمنسٹریٹور سروسز اور پولیس سروس کے افسران کی تقرری مختلف صوبوں میں ..
تازہ ترین : 1

پاکستان ایڈمنسٹریٹور سروسز اور پولیس سروس کے افسران کی تقرری مختلف صوبوں میں تعیناتی ہوتی رہتی ہے، وفاق کی طرف سے کسی صوبے پر افسران مسلط نہیں کئے جا سکتے

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ کاسینیٹر سردار اعظم کی تحریک التواء پر اظہار خیال متعلقہ صوبوں اور بالخصوص بلوچستان میں کوٹے کے مطابق افسران کی تعیناتی کی جائے، چیئر میں سینیٹ کی ہدایت

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹور سروسز اور پولیس سروس کے افسران کی تقرری مختلف صوبوں میں تعیناتی ہوتی رہتی ہے، وفاق کی طرف سے کسی صوبے پر افسران مسلط نہیں کئے جا سکتے جبکہ چیئر میں سینٹ نے کہا کہ متعلقہ صوبوں اور بالخصوص بلوچستان میں کوٹے کے مطابق افسران کی تعیناتی کی جائے ۔

جمعہ کو اجلاس کے دوران سینیٹر سردار محمد اعظم خان موسیٰ خیل کی تحریک التواء پر اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ آئین کے تحت 17 سے 22 گریڈ کی آسامیوں پر تقرری کسی بھی صوبے میں کی جا سکتی ہے، اسی وجہ سے افسران کے مختلف صوبوں میں تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے روٹیشن کے تحت مختلف صوبوں میں افسران کی تعیناتی کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے جس پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی ایس ایس کرنے والے افسران کی پہلی پوسٹنگ اپنے صوبے سے باہر کی جاتی ہے، دو سے زائد صوبوں میں سروس سے ان کا ریکارڈ اچھا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ 22 کے افسران کی تقرری کے لئے صوبے اپنی رائے دیتے ہیں اور پینل سے ان کا انتخاب ہوتا ہے کسی بھی صوبے پر افسران مسلط نہیں کئے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تعینات آئی جی صاحبان پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سندھ کے آئی جی غلام حیدر جمالی کا تعلق اپنے ہی صوبے سے ہے۔

قبل ازیں سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے کہا کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گریڈ 21 اور 22 کے افسران کی تعیناتی ان صوبوں کے افسران سے ہی کی جائے، وفاق سے ان عہدوں پر افسران تعینات نہ کئے جائیں۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹے سے متعلق قانونی سازی کا عمل قومی اسمبلی میں زیر التواء ہے، کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے قانون سازی کو جلد مکمل کیا جانا چاہیے۔

چیئرمین نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ ان کے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افسران اپنے صوبوں میں تعینات نہیں کئے جاتے اور وفاق سے نمائندگی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت متعلقہ صوبوں اور بالخصوص بلوچستان میں کوٹے کے مطابق افسران کی تعیناتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹے سے متعلق قانون سازی قومی اسمبلی میں زیر التواء ہے، اس پر فوری کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ کوتے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 18:16:38

اپنی رائے کا اظہار کریں