جاگیردارانہ ‘ وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے ‘پورے ملک ..
تازہ ترین : 1

جاگیردارانہ ‘ وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے ‘پورے ملک کے غریب اور متوسط طبقہ کے عوام ایم کیو ایم کے پرچم تلے اکھٹے ہوکراپنے ووٹ کی طاقت سے استحصالی نظام کا مکمل خاتمہ کر کے دم لیں گے

ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر‘ جوائنٹ انچارج صوبائی تنظیمی کمیٹی محمد طاہرکھوکھرکی میڈیا سے بات چیت

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر‘ جوائنٹ انچارج صوبائی تنظیمی کمیٹی محمد طاہرکھوکھرنے کہا ہے کہ جاگیردارانہ ‘ وڈیرانہ اور سرمایہ دارانہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے ‘پورے ملک کے غریب اور متوسط طبقہ کے عوام ایم کیو ایم کے پرچم تلے اکھٹے ہوکراپنے ووٹ کی طاقت سے استحصالی نظام کا مکمل خاتمہ کر کے دم لیں گے- آج سے 37 برس قبل ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کے نام سے جس طلباء تحریک کی بنیاد رکھی ‘ آج اس کے نوجوان ایوانوں میں غریب ‘ متوسط اور محنت طبقہ کے حقوق کی جدوجہد میں ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں- اے پی ایس او نے ملک کے فرسود ہ سیاسی نظام میں نئی روح پھونکی اور انشاء اللہ یہی تحریک ملک کو بچائے اور بنائے گی - 37 ویں یوم تاسیس کے موقع پریہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر جو صوبائی تنظیمی کمیٹی کے جوائنٹ انچارج بھی ہیں نے تمام اے پی ایس او کے ذمہ داران ‘ کارکنا ن ‘ طلباء و طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کہ 11جون 1978تاریخ ساز دن ہے ۔

جب پاکستان کی روایتی ،سرمایہ دارانہ ،وڈیرانہ ،جاگیردارانہ اور کرپٹ سیاسی کلچر میں پہلی مرتبہ غریب متوسط طبقہ کے پڑھے لکھے طالبعلموں نے ایک طلباء تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی اورپاکستان کی روایتی ،سرمایہ درانہ ،وڈیرانہ ،جاگیردارانہ اور کرپٹ سیاسی کلچر میں دراڑ ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ روایت رہی ہے کہ پہلے سیاسی جماعتیں بنتی ہیں پھرطلباء ونگ بنتے ہیں۔

اے پی ایم ایس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس طلباء تنظیم نے ترقی کرتے کرتے ایک سیاسی جماعت کو جنم دیا۔ جس نے پاکستان کی روایتی سیاست میں غریب و متوسط طبقہ کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے برابر میں بٹھایا۔ انہوں نے طلباء و طالبات کو یہ پیغام دیا ہے کہ اصل زیور تعلیم و تربیت ہے اور تعلیم اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے تا کہ ہم ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیم کا شعبہ قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے لازمی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں تعلیم کا بجٹ انتہائی کم ہے ‘ حکمران عیاشیاں کر رہے ہیں‘ اور ملک کے بچے بچے کا بال قرض میں جکڑا ہوا ہے‘طاہرکھوکھر نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین نے جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے خلاف جس جدوجہد کا آغاز کیا تھا انشاء اللہ عوام کے تعاون سے بہت جلد ان کی جدوجہد کامیاب ہو گی اور ملک بھر میں حقیقی معنوں میں انقلاب آئے گا جس کے بعد ملکی آبادی کا محض 2 فیصد مراعات یافتہ طبقہ کی حکمرانی ختم ہو گی اور اختیارات عوام کے پاس ہوں گے جس کے لیے ضروری ہے کہ عوام ایم کیو ایم کا ساتھ دیتے ہوئے غریب اور متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچائیں جو ان کے حق میں قانون سازی کر کے ان کی خوشحالی کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 16:26:49

اپنی رائے کا اظہار کریں