جس طرح پاکستان میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر آواز اٹھائی گئی ، اس کی مثال نہیں ..
تازہ ترین : 1

جس طرح پاکستان میں روہنگیا مسلمانوں کے مسئلے پر آواز اٹھائی گئی ، اس کی مثال نہیں ملتی، یہ نظریات کی جنگ ہے جس میں کامیاب ہونے کیلئے آپس کے اتحاد اور اپنے آپ کو مزید مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے

گلوبل روہنگیا سینیٹر وفد کا پارلیمنٹ ہاوٴس کا دورہ ، روہنگیا مسلمانوں بارے متفقہ قرار دادیں پاس کرنے پر خیرمقدم

اسلام آبا(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء)گلوبل روہنگیا سینیٹر کے ایک وفد نے پارلیمنٹ ہاوٴس کا دورہ کیا،وفد کی صدارت جی آر سی کے صدر عبداللہ ماروف کر رہے تھے۔ سینیٹ کے اجلاس کی کاروائی دیکھنے کے علاوہ وفد نے سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفر الحق سے ملاقات بھی کی۔وفد کے ممبران نے پاکستانی قیادت کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں متفقہ قرار دادیں پاس کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اور کہا کہ پوری قوم روہنگیا مسلمانوں کے دکھ میں شریک ہوگئی ہے ۔

جی آر سی کے صدر عبد اللہ ماروف کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان میں اس مسئلے پر آواز اٹھائی گئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید اور جی آر سی بورڈ کے ممبر طیب بن مشرف الجمال بھی موجود تھے ۔ سینیٹ میں قرار داد پر بحث کے دوران کی جانے والی سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق کی تقریر کو سراہا گیا جس میں انہوں نے تاریخی پسِ منظر پر روشنی ڈالی تھی۔

ملاقات میں سب شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ نظریات کی جنگ ہے جس میں کامیاب ہونے کیلئے آپس کے اتحاد اور اپنے آپ کو مزید مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ اقوام متحدہ جیسے فورمز پر آواز بلند کی جا سکے ۔راجہ محمد ظفر الحق نے عبداللہ ماروف سے جی آر سی کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف زبانوں میں لکھنے کی اہمیت پر زور دیا تا کہ اس اہم مسئلہ کو اقوام عالم تک بہتر طریقے سے پہنچایا جا سکے ۔

جی آر سی کے صدر نے بتایا کہ فورم کو مستحکم بنانے اور اس کے کام میں جان ڈالنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے ۔سینیٹر راجہ محمد ظفر الحق اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے وفد کو پاکستان کی طرف سے روہنگیا کے مسلمانوں کو مسلسل مدد کی یقین دھانی کرائی اور کہا کہ پاکستان سے جو کچھ ہوسکے گا وہ کریگا۔ وفد نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 16:16:33

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں