وفاقی حکومت کے اہم قومی فیصلوں پر اعتماد میں نہ لینے سے وفاق اور صوبوں میں اعتماد ..
تازہ ترین : 1

وفاقی حکومت کے اہم قومی فیصلوں پر اعتماد میں نہ لینے سے وفاق اور صوبوں میں اعتماد ختم ہورہا ہے

قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیر پاؤ کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء ) قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اہم قومی فیصلوں پر صوبوں کو اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے وفاق اور صوبوں میں اعتماد ختم ہورہا ہے ، بجٹ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو ترجیح نہ دینا افسوسناک ہے ، بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کی اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف بیان بازی پختونوں کے خلاف سازش ہے ، بجٹ میں منڈا ڈیم اور کرم تنگی ڈیم کیلئے نہ ہونے کے برابر فنڈز مختص کیے گئے ہیں ، گیس ، کوئلے اور ہوا سے پیدا ہونیوالی بجلی انتہائی مہنگی ہوگی ،جس سے بجلی کی اوسط قیمت 17 روپے فی یونٹ تک بڑھ جائے گی ، وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو 1500 میگا واٹ بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا جبکہ 850 میگا واٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے ، خیبرپختونخوا کو بجلی کا منافع ادا کیا جائے ، لواری ٹنل منصوبے کیلئے ڈیڈ لائن مقرر کی جائے ۔

وہ جمعہ کو یہاں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمین کے بعد مرکزیت پر مبنی فورم مشترکہ مفادات کونسل کے پاس نہیں لے جارہی ، حکومت بتائے کہ کون سا غیر ملکی قرضہ ہے جس کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل سے لی گئی ہو ، آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا کہ حکومت کے موجودہ رویے سے صوبوں اور وفاق مین اعتماد ختم ہورہا ہے ، اس طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر صوبوں کے تحفظات دور کرنے کی ضرورت ہے ، اس پر آل پارٹیز کانفرنس میں پیدا ہونیوالا اتفاق رائے قابل تعریف ہے لیکن آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مذکورہ منصوبے کو ترجیح ہن دینا افسوسناک ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری اس منصوبے کے خلاف بھارتی وزیراعظم نریندری موودی کی بیان بازی درحقیقت پشتونوں کے خلاف سازش ہے لیکن ہمارے صوبے کے لوگ ڈٹ کر بھارت کا مقابلہ کریں گے ، اس کے علاوہ ملک میں انتہا پسندوں و دہشگردی اہم ترین مسئلہ ہے ، اس سے صوبہ خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے ، وہاں اب بھی لاکھوں کی تعداد میں آئی ڈی پیز موجود ہیں بلکہ پشتون کئی مرتبہ آئی ڈی پیز بننے پر مجبور ہوا ۔ بجٹ میں گو کہ حکومت نے آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کی بحالی کیلئے 100 ارب رکھے ہیں لیکن مذکورہ رقم کسی طرح استعمال ہوگی اس بارے کچھ نہیں بتایا گیا ۔

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 15:53:51

اپنی رائے کا اظہار کریں