تمام دباؤ مسترد ‘ این جی اوز کو پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق کام کر نا ہوگا ..
تازہ ترین : 1
تمام دباؤ مسترد ‘ این جی اوز کو پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق کام ..

تمام دباؤ مسترد ‘ این جی اوز کو پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق کام کر نا ہوگا ‘ روزیر داخلہ کا واضح پیغام

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 12 جون۔2015ء) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے این جی اوکو واضح پیغام دیا ہے کہ این جی اوز کو پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق کام کر نا ہوگا ‘ این جی اوز کو دائرہ کار میں لانے کیلئے کسی قسم کا دباؤ بر داشت نہیں کیا جائیگا ‘ مقامی این جی اوز چند ٹکوں کی خاطر پاکستان کی عزت نفس نہ بیچیں ‘ پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ‘ دہشتگردوں کو پھانسیاں پاکستانی قانون اور آئین کے مطابق دی جارہی ہیں ‘ کسی کو طوفان برپا کر نا کی ضرورت نہیں ‘کئی این جی اوز کے کام بتائیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ‘ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھانے کاسوچ رہا ہوں ‘ مثبت کر نے والی این جی اوز کے ساتھ تعاون کیا جائیگا ‘ پالیسی رواں جون میں آجائیگی ۔

جمعہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ کئی این جی اوز اپنے ایجنڈے کیساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں کام کررہی ہیں اور ان کا ایجنڈا پاکستان مخالف ہے ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ مادر پدر آزادی نہیں چل سکتی ہے اور مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا

انہوں نے کہاکہ میں واضح طورپر غیر ملکی این جی اوز اور عالمی ممالک کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ این جی اوز کو پاکستان کے قانون کے مطابق کام کر نا ہوگا اور این جی اوز کو دائرہ کار میں لانے کیلئے کسی قسم کا کوئی دباؤ برداشت نہیں کیا جائیگا انہوں نے کہاکہ این جی اوز کوپاکستان کے مفادات ‘ ضابطے اور قانون کا احترام کر نا ہوگا یہ نہیں ہوسکتا کہ این جی اوز رجسٹرڈ کسی اور کام کیلئے ہو اور وہ کام کوئی اور کرے انہوں نے کہاکہ میں سوچ رہا کہ یہ سارا پارلیمنٹ میں کھولوں انہوں نے کہاکہ بہت ساری این جی اوز ایسی بھی ہیں جو اچھا کام کررہی ہیں ہم ان کی حمایت کرینگے اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائیگا مگر اچھے کام کر نے والی این جی اوز کی چھتری کے نیچے کوئی اور کام نہیں کر نے دیا جائیگا اور اس مسئلہ پر کوئی طوفان نہیں برپا ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ دنیا کے ممالک کے اپنے اپنے قوانین ہوتے ہیں میں ان سے سوال کر تا ہوں کیا وہ اپنے قانون کے خلاف کسی کو کام کر نے کی اجازت دے سکتے ہیں ؟کیا وہ اپنے ضابطے کے خلاف کسی کو قبول کر ینگے انہوں نے بتایا کہ ایک این جی اوز افریقا میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان میں بغیر اجازت سے کام کررہی ہے بلوچستان اور گلگت پر غلط رپورٹس بھیجی جارہی ہیں جھوٹ پر مبنی خبریں رپورٹ کی جارہی ہیں اب ایسا نہیں ہوگا وزیر داخلہ نے کہا کہ قواعد کے مطابق کوئی این جی اوکام کرے تو اتفاق رائے ہوسکتا ہے انہوں نے بتایا کہ ایک این جی اوز بھارت ‘ اور اسرائیل کیلئے کام کررہی ہے وزیر داخلہ نے کہاکہ ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہے مگر قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا کئی این جی اوز ایسی ہیں جو ایجنڈے کے خلاف کام کررہی ہیں اور ہمارے واضح ثبوت ہیں ایسی کارروائیاں سامنے رکھوں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے انہوں نے کہاکہ ہم این جی اوز پر پابندی نہیں لگانا چاہتے ہیں بلکہ انہیں اپنے قانون اور ضابطے کے مطابق لانا چاہتے ہیں پاکستانی مفادات ‘ پاکستانی کلچر اور پاکستان کے خلاف کام کر نے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی وزیر داخلہ نے کہاکہ دنیا کے ممالک ہمارے پارلیمنٹ کے ارکان کو ویزے دینے سے انکار کر دیتے ہیں کہ آپ نے پارلیمنٹ میں فلاں تقریر کی وہ آپ کا اختیار ہے کیا ہمیں کوئی اختیار نہیں ؟وزیر داخلہ نے کہاکہ کئی این جی اوز رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں اور دس ‘ دس ‘ بارہ ‘ بارہ سال سے کام کررہی ہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ پاکستان کے کس کونے میں کام کررہی ہیں دائیں ہاتھ کو نہیں پتہ کہ بائیں ہاتھ کیا کررہا ہے وزیر داخلہ نے ایک بار پھر کہا کہ مثبت کام کر نے والی ا ین جی اوز کے ساتھ تعاون کیا جائیگا اس ضمن میں جون میں واضح پالیسی آ جائیگی پھانسی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ نان ایشو کو ایشو بنا دیا گیا ہے یورپی یونین نے پاکستان کی مدد کی ہے ‘ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کیلئے پاکستان کاساتھ دیا ہے مگر پاکستان میں پھانسیاں قانون اور آئین کے مطابق دی جارہی ہیں دہشتگرد معصوم لوگوں ‘ بچوں اور خواتین پر حملے کرتے ہیں مگر پھانسیاں پر طوفان برپاکر دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ شفقت حسین کیس کے ذریعے ہمارے جو ڈیشل سسٹم پر تنقید کی گئی سپریم کورٹ تک فیصلہ شفقت حسین کے خلاف آیاانکوائری کے بعد یہ بات واضح ہے کہ شفقت حسین کی عمر 23سال تھی-انہوں نے کہا کہ ہر سال جرم کے مرتکب ہزاروں افراد کو کم عمر قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے - وزیر داخلہ نے کہاکہ مقامی این جی اوز کو فنڈنگ باہر سے ہوتی ہے مگر بیرونی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کر نے کی اجاز ت نہیں دی جائیگی اور اچھے کام کر نے والی این جی اوز خوف وخطر ہ نہ سمجھیں تاہم پاکستان کے خلاف کر نے والی این جی اوز کو خوف اور خطرہ محسوس ہونا چاہیے ایک اور سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہاکہ آفتاب بہادر کی پھانسی پر اعتراض کیا گیا ہمارے جو ڈیشل نظام کے خلاف پروپیگنڈہ بند ہونا چاہیے عدالتی نظام پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے پاکستان کے خلاف انگلیاں اٹھیں یہ کسی صورت بر داشت نہیں کرینگے انہوں نے این جی اوز سے کہا کہ وہ چند ٹکوں کی خاطر پاکستان کی عزت نفس نہ بیچیں پاکستان کی تضحیک بر داشت نہیں کر سکتے انہوں نے کہاکہ عوام کو معلوم نہیں کہ بیرونی طاقتوں نے پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کر رکھا ہے گھناؤنے کام چھپانے کیلئے بہت سے لوگوں سے رابطے کئے ہوئے ہیں اب یہ سلسلہ ختم ہو نا چاہیے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/06/2015 - 14:54:02

متعلقہ عنوان :

قارئین کی رائے :

  • یا سین کھان کی رائے : 12/06/2015 - 23:29:50

    بہت اچہے یہ کام بہت پھلے کرنا چا ہیے تھا این جی اوز کو محدود نہی ان بلکل بند کرنا چا ہیے،جیو چوہدری نثار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس رائے کا جواب دیں
  • ilyas ali Says : 12/06/2015 - 17:17:11

    good work for safty of Pakistan

    Reply to this comment
  • m.shakeel Says : 12/06/2015 - 17:12:14

    wafaq k all wozra mai se ch.nisar sab se best h.. mukhlis, mohbay watan brave be... ma slam krta hn ch. nisar sb ko...in ki cargardge par..

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں