`کراچی ، چیئرمین واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے گریڈ 16 سے 19 تک کے 24 گھوسٹ ملازمین کو ملازمتوں ..
تازہ ترین : 1

`کراچی ، چیئرمین واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے گریڈ 16 سے 19 تک کے 24 گھوسٹ ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کردیا

تمام محکموں میں گھوسٹ ملازمین کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا ،شرجیل میمن`

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء ) وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ اور چیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ شرجیل انعام میمن نے کراچی واٹر بورڈ میں گریڈ 16 سے 19 تک کے 24 گھوسٹ ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے۔ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ محکمہ بلدیات سمیت سندھ بھر کے تمام محکموں میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا جائے گا اور اب ان کی سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دی جائیں گی، جو اپنی ملازمتوں پر آئیں گے۔

واٹر بورڈ سے فارغ کئے جانے والوں میں گریڈ 19 کے سپریٹنڈنٹ انجینئر پروجیکٹ ڈائریکٹر کے تھری فرخ نعیم سمیت گریڈ 18 کے دو، گریڈ 17 کے 14 اور گریڈ 16 کے 7 ملازمین شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن کی جانب سے محکمہ بلدیات کے زیر انتظام تمام اداروں بالخصوص کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور کراچی واٹر بورڈاینڈ سیوریج بورڈ میں موجود گھوسٹ ملازمین کے خاتمے کے اعلان کے بعد جمعرات کو صوبائی وزیر نے واٹر بورڈ میں 24 ایسے گھوسٹ ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کردیا ہے، جنہیں متعدد بار شوکاز نوٹسز اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے نوٹسز کے اجراء کے باوجود وہ اپنی ملازمتوں پر حاضر نہیں ہوئے تھے۔

فارغ کئے جانے والے ملازمین میں گریڈ 19 پر تعینات پروجیکٹ ڈائریکٹر کے تھر ایس ای فرخ نعیم، گریڈ 18 کے ایگزیکٹو انجنئیر پروجیکٹ ڈائریکٹر(ڈبلیو) قمر فریدی، گریڈ 18 کے ڈسٹرکٹ آفیسر عطا اﷲ، گریڈ 17 کے 14 اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجنئیرز اور گریڈ 16 کے 7 سب انجنئیرز شامل ہیں۔ ان تمام گھوسٹ ملازمین کو متعدد بار شوکاز نوٹسز کے اجراء کے بعد فائنل نوٹس کے طور پر 18 مئی2015 کو انگریزی، اردو اور سندھی اخبارات کے ذریعے نوٹسز جاری کئے گئے اور انہیں 15 روز کی مہلت دی گئی تاہم یہ ملازمین اس کے باوجود بھی اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر نہ ہوئے، جس کے بعد جمعرات کو ایم ڈی واٹر بورڈ نے ان تمام 24 گھوسٹ ملازمین کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کرنے کی سمری وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ اور واٹر بورڈ کے چیئرمین شرجیل انعام میمن کو ارسال کی اور انہوں نے اس کی منظوری دے دی ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ قبل ہی تمام ایسے ملازمین جو اپنی ڈیوٹیوں پرنہیں آرہے ہیں یاپھر وہ صرف اداروں میں حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں ان سب کو ہدایات دی تھیں کہ وہ اپنے اپنے اداروں میں مکمل ڈیوٹیاں سرانجام دیں اور اس سلسلے میں جہاں ان تمام ملازمین کی تنخواہوں کو سندھ بینک کے ذریعے ادا کرنے کی ہدایات دی تھی، وہاں انہوں نے تمام اداروں میں حاضری کے نظام کو بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے منسلک کرنے کی بھی ہدایات دی ہیں۔

صوبائی وزیر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اب محکمہ بلدیات سمیت سندھ حکومت کے تمام محکموں اور اداروں میں موجود گھوسٹ ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن کو تیز کیا جائے گا اور اب صرف ان ہی سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے گی، جو اپنی ڈیوٹیوں پر حاضر ہوں گے اور مکمل طور پر اپنا کام سرانجام دیں گے۔ انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کراچی، ایم ڈی واٹر بورڈ اور صوبے بھر کے تمام اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز، میونسپل کمشنرز اور ڈسٹرکٹ میونسپل آفیسرز کو سختی سے ہدایات دیں ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں اور اداروں میں گھوسٹ ملازمین کی فہرستیں انہیں فراہم کریں اور جو ملازمین ڈیوٹیوں پر حاضر نہیں ہیں انہیں فارغ کرکے ان کی رپورٹ انہیں ارسال کریں۔ `

وقت اشاعت : 11/06/2015 - 23:12:11

اپنی رائے کا اظہار کریں