حکو مت اسلام آباد کے لو گوں کی زمینوں کوز بر دستی ایوارڈ کر نے سے گر یز کر ے‘ حکو ..
تازہ ترین : 1

حکو مت اسلام آباد کے لو گوں کی زمینوں کوز بر دستی ایوارڈ کر نے سے گر یز کر ے‘ حکو مت نے شہر یوں سے تصادم کی راہ اختیار کی تو تمام تر ذمہ داری حکو مت پر عا ئد ہو گی‘ جی بارہ اور ایف بارہ اور تیرہ کو ایورڈ کیے ہو ئے تیس سال کا عر صہ گزر چکا ہے مگر تا حال اسکا کو ئی فیصلہ نہیں کیا گیا

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فارو ق خان کی ا نجمن فلاح متاثرین سیکٹرزکے نمائندہ وفد سے بات چیت

اسلام آباد( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فارو ق خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکو مت اسلام آباد کے لو گوں کی زمینوں کوز بر دستی ایوارڈ کر نے سے گر یز کر ے ،پہلے سے ایورڈ کیے گئے سیکٹرز کے فیصلے کو بھی متا ثرین نے مسترد کر دیا ہے اب پھر ایف چو دہ اور ایف پندرہ کے سیکٹرز کو ایورڈ کر نے کی تیا ری کی جا رہی ہے جو فیڈرل ہا وسنگ فاونڈیشن کو دینے کا پرو گرام بنایا گیا ہے ۔

انھوں نے کہا جب تک پہلے سے ایورد کیے گئے سیکٹرز کے متنا ز عہ مسائل کا حل نہیں نکا لا جا تا ان سیکٹرز کے ایورڈ کے فیصلے کو کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا ئے گا ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ا نجمن فلاح متاثرین سیکٹرز اسلام آباد کے ایک نمائندہ وفد سے ملاقات کر تے ہو ئے کیا ۔اس مو قع پر چیئرمین بابو خالق داد، ملک ریاض ،ملک محمد رشید ،ملک غلام فرید ،ملک فرید، صوبیدار خدا بخش ، جلال الدین، ملک افطار، ملک اسلم ،ٖفاروق ملک اور دیگر بھی مو جو د تھے ۔

زبیر فارو ق خان نے کہا متا ثر ین سیکٹرز کو مطمئن کیے بغیر نہ تو سیکٹر ز کا قبضہ دیا جا ئے گا اور نہ ہی سر کاری لبادے میں مو جو د قبضہ ما فیا کو زمینوں پر ناجائز قبضے کی اجازت دی جا ئے گی ،اگر حکو مت نے شہر یوں کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکو مت پر عا ئد ہو گی۔ انھوں نے کہا جی بارہ اور ایف بارہ اور تیرہ کو ایورڈ کیے ہو ئے تیس سال سے زائد کا عر صہ گزر چکا ہے مگر تا حا ل اس حو الے سے کو ئی فیصلہ نہیں کیا گیا اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ جب تک پہلے سے ایورڈ کیے گئے سیکٹرز لو گوں کو حقوق دے کر ایکوائر نہیں کیے جا تے ہم اگلے کوئی سیکٹر حکو مت یا سی ڈی اے کو نہیں دیں گے۔

زبیر فارو ق خان نے کہا شہر یوں کے حقوق کی ادائیگی تک جما عت اسلامی کسی کو بھی زمینوں پر قبضے کی اجازت نہیں دے گی اور اس سلسلے میں عدالتی کاروائی کا راستہ بھی اختیار کیا جا ئے گا ۔

وقت اشاعت : 11/06/2015 - 22:17:20

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں