کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ،نجمی عالم
تازہ ترین : 1

کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ،نجمی عالم

ایم کیو ایم نے ان 28سالوں میں کراچی کے عوام کو پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا،پریس کانفرنس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 جون۔2015ء)پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر نجمی عالم نے کہا ہے کہ کراچی میں پانی کے بحران پرایم کیو ایم سیاست کررہی ہے ۔ جبکہ یہ حقیقت ساری دنیا جانتی ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت کراچی کے تمام بلدیاتی اداروں پر گزشتہ 28سالوں سے ایم کیو ایم کی حکمرانی اور اجارہ داری رہی ہے۔ ایم کیو ایم نے ان 28سالوں میں کراچی کے عوام کو پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا نہ ہی کوئی سنجیدہ کام کیا۔

کراچی کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس تک کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں ۔لیکن کراچی کے عوام ان اوچھے ہتھکنڈوں میں آنے والے نہیں ۔ایم کیو ایم عوامی مطالبات پر سیاست کرنے کے بجائے شہر کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔پیپلزپارٹی مفاہمتی پالیسی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے ۔اگر پارٹی قیادت اور سندھ حکومت پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا تو پھر پیپلزپارٹی بھی جمہوری انداز میں اس نتقید کا بھرپور جواب دے گی ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو پیپلزمیڈیا سیل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وقار مہدی ،لطیف مغل اور دیگر بھی موجود تھے ۔نجمی عالم نے کہا کہ کراچی پانی کی قلت کا شکار ہے۔ جس کی بنیادی وجہ حب ڈیم کا خشک ہوجانااور کے الیکٹرک کی جانب سے گھارو، دھابیجی اور پپری پمپنگ اسٹیشنز پر مسلسل طویل دورانیہ کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ہے۔

میں یہاں یہ بات واضح کردینا چاہتا ہوں کہ کراچی کو پانی کی سپلائی میں کمی کی بڑی وجہ لوڈشیڈنگ ہی ہے کیونکہ یہ ٹیکنیکل مسئلہ ہے اس کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگر ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوجائے تو پانی کو چینلائز کرنے کیلئے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں اور ان چار گھنٹوں میں پھر لوڈشیڈنگ ہوجائے تو پھر چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں شہری علاقوں میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھروں میں پانی نہیں پہنچ پاتا حالانکہ پمپنگ اسٹیشنوں سے پانی کی سپلائی کی جارہی ہوتی ہے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم اس صورت حال کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے اور لوڈشیڈنگ جیسی بھیانک اذیت کو یکسر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے انصاف تو تب ہوتا کہ کے الیکٹرک کی بھی اسی طرح مذمت کی جاتی جس طرح بلاجواز صوبائی حکومت پر تنقید کے تیر برسائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 100 ملین گیلن پانی کی فراہمی کیلئے K2 1988ء میں شروع ہوا تھا اور بعد ازاں 1998ء میں مکمل ہوا۔

K3 پروجیکٹ کے تحت 100ملین گیلن پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز 2002 میں نعمت اﷲ خان کے دور میں ہوا اور پھر تکمیل 2006ٰٗء میں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ بتائے کہ خود متحدہ کے دور حکومت میں کونسا منصوبہ شروع ہوا؟بلکہ ہمیشہ متحدہ نے پکی پکائی روٹی پر قبضہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبے میں لائنوں کی لیکجز( رساؤ) پمپس ہاؤس کی تکمیل کے بعد ایم کیو ایم کے سٹی ناظم اور دیگر ناظمین نے دیگر علاقائی پمپس کی صورتحال پر کوئی توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ لانڈھی ، کورنگی، نارتھ کراچی، انڈسٹریل ایریاز سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی لائنیں بچھانے کیلئے اور مینٹیننس کیلئے کروڑوں روپے کے ٹھیکے دیئے گئے ، مینٹینس کے نام پر جاری کردہ ٹھیکوں کی جعلی فائلیں تیار کی گئی جب کہ زمین پر کوئی کام نہیں ہوسکا،جو آج تک پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے‘ ان کی تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ K3 سے منسلک 9پروجیکٹ مکمل ہوتے تو پانی کی سپلائی بہتر انداز میں ہوسکتی تھی۔

اس میں ایک پروجیکٹ تقریباً 1ارب کا ٹھیکہ 2حصوں میں تقسیم کر کے اپنے منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازا گیا۔1987سے مصطفی کمال تک ایم کیو ایم واٹر بورڈ میں کونسا بڑا منصوبہ لائی ؟جبکہ جنوری2008ء تک واٹر بورڈ میں متحدہ کے ممبران ہی چیئرمین، وائس چیئرمین رہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ بتائے جن علاقوں میں پانی کی کمی پر اب واویلا مچایا جارہا ہے ان علاقوں میں پانی کی کمی ان کے دور اقتدار میں بھی تھی ، اس کمی کو پورا کرنے کیلئے انہوں نے کیا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی والے علاقوں میں ایم کیوایم کا ووٹ بینک نہ ہونے کی ہی شہریوں کو سزا دی گئی اور اب انہی کے نام اور مسائل پر سیاست کی جارہی ہے غیر قانونی ہائیڈرینڈ ایم کیو ایم کی سرپرستی میں قائم کئے گئے ۔کے ای ایس سی کی نجکاری ایم کیو ایم نے کرائی؟ ایم کیو ایم بتائے کہ کراچی میں بدترین لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر احتجاج کیوں نہیں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ1996ء میں کراچی واٹر بورڈ میں پانی تقریباً 410 ملین گیلن تھا، نگراں حکومت میں جب نگران صوبائی وزیر آغا مسعود چیئرمین تھے تو 40ملین گیلن پانی ایم جی ڈی اضافہ کیا گیا اب 450ایم جی ڈی ہوگیا ۔

انہوں نے کہا کہ 1998ء میں K2 100ملین گیلن کا اضافہ ہوا تقریباً 550 ملین گیلن ہوگیا۔ 2006میں مزید اضافہ 100 ملین گیلن K3، 650 ملین گیلن کا اضافہ ہوگیا۔ موجودہ صورتحال میں 100ملین گیلن پانی حب ڈیم خشک ہوجانے کے سبب کم ہو کر محض 550 ایم جی ڈی رہ گیا ہے۔ ہمارا کراچی کا زبانی دعویٰ مختلف سیاسی جماعتیں کرتی ہیں مگر اقتدار میں رہتے ہوئے کام میں دلچسپی بہت کم لی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی خصوصی ہدایت پر 2012 میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں کراچی کے لئے مزید 12سو کیوسک یعنی تقریباً 650 ایم جی ڈی پانی کی منظوری دی جو اس سے پہلے صرف 12سو کیوسک تھا جو بڑھ کر 24سو کیوسک یعنی ڈبل ہوگیا۔ شہر کراچی کی آبادی مستقل بڑھ رہی ہے مگر وفاق کے کوٹے سے کراچی کیلئے پانی کی سپلائی میں اضافہ نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پمپنگ اسٹیشن و فلٹر پلانٹ کی تنصیب ، شہر کراچی کے انفرااسٹرکچر کو مضبوط کرنا ، سابقہ دور میں بحیثیت ناظم مصطفی کمال اور ممبران کی موجودگی میں ان کاموں پر توجہ نہیں دی گئی شہرکی بڑی اور چھوٹی پانی کی لائنوں، والو سسٹم کی بہتری کے لئے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ 2002سے 2008تک فائلوں میں کروڑوں روپے کے ٹھیکے پیرا 58کے تحت ایمرجنسی کے نام پر تقریباً 30ارب کے کام محض کاغذات میں کروائے گئے مگر گراؤنڈ پر کام نہیں ہوئے۔ لیکج بدستور برقرار رہیں شہر میں ڈھائی لاکھ والو ہیں۔ مخصوص علاقوں میں والو کی شیٹ نکال دی گئیں وہاں والو آپریشن نہیں کررہے۔ تاکہ مخصوص علاقوں میں 24گھنٹے پانی ملتا رہے اور عام شہری پانی کی بوند بوند کو ترستے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء میں پپری پمپنگ اسٹیشن سے سعود آباد پمپنگ اسٹیشن لایا گیا۔ ٹھیکیدار کو ادائیگی بھی کر دی گئی سکیورٹی کی رقم ادا ہوگئی،مگر مرکزی سسٹم سے منسلک نہیں کیا گیا، حیران کن امر یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کی رقم واٹر بورڈ نے ادا کی ،جبکہ یہ کام تعمیر کراچی کا حصہ تھا۔اسی طرح تمام بڑی لائنوں پر الیکٹرو میگ نیٹک میٹر کی تنصیب ہونا تھی۔

ٹینڈر ہونے کے بعد رقم کی ادائیگی ہوگئی مہنگے داموں میٹر خریدے گئے مگر تنصیب نہیں ہوئے۔ اس پروجیکٹ کو سوچھی سمجھی سازش کے تحت مکمل نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ اگر میٹر لگ جاتے تو کس ٹاؤن میں کتنا پانی دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کراچی شہر میں پانی کی کمی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کررہی ہے۔

اس سلسلے میں شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم منصوبوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے ، شارٹ ٹرم میں جن علاقوں میں پانی نہیں آرہا وہاں ٹینکروں کے ذریعے مفت پانی فراہم کیا جارہا ہے اور لانگ ٹرم منصوبوں میں کل ہی صوبائی حکومت نے 26.7ارب کی لاگت سے K4 کا پروجیکٹ شروع کیا ہے جس کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جیلانی نے کیا ہے۔ یہ پہلے مرحلے میں 260 ملین گیلن کاپروجیکٹ 5 سال میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا جس کے بعدکراچی میں پانی کی کمی کے مسئلے پرکافی حد تک قابو پالیا جائے گا۔

K4 مرحلے سے قبل 65ملین گیلن کی منظوری دے دی گئی ہے یہ پروجیکٹ 2سال میں مکمل ہوگا واضح رہے کہ یہ 65ملین پانی پرانے کوٹے کا ہالیجی سے لینا تھا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی واٹربورڈ میں 70فیصد ملازمین ایم کیو ایم نے بھرتی کیے جو ان کے نظریاتی کارکن ہیں ۔ایم کیو ایم جواب دے کہ یہ نوکریاں کیوں نہیں کرتے ہیں ۔اس موقع پر وقار مہدی نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی شہر کی ترقی کے لیے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

وقت اشاعت : 11/06/2015 - 20:35:51

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں