اراکین سینٹ کی بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف ..
تازہ ترین : 1

اراکین سینٹ کی بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات کی سخت ترین مذمت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 10 جون۔2015ء)اراکین سینٹ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی اور بھارتی وزراء کے پاکستان مخالف بیانات کی سخت ترین مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت تمام محاذوں پر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ‘بھارتی رہنماؤں کے پاکستان مخالف بیانات کا نوٹس لیاجانا چاہیے جبکہ اپوزیشن نے بجٹ پر بحث کی کارروائی پی ٹی وی پر براہ راست ٹیلی کاسٹ نہ کرنے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

بدھ کو یہاں سینٹ میں مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاک آرمی آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے جبکہ بجٹ میں نیکٹا کیلئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گئے ہیں، اے پی ایس کے شہداء کے لواحقین کو امداد ابھی تک نہیں ملی، بھارتی وزیراعظم کا بیان قابل مذمت ہے، بھارت تمام محاذوں پر ہمارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے، بجٹ میں سرکلر ڈیبٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ ٹیکس چوری، دہشت گردی اور توانائی کا بحران ملک کے بڑے مسائل ہیں، ان سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو زیادہ ریلیف دیا جانا چاہیے تھا، اسی سلسلے میں معاشی اہداف کے حصول کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے شعبے کی کارکردگی میں بہتری کے لئے اصلاحات کرنا ہوں گی اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے نیکٹا کو فعال بنانا ہو گا اور اسے فنڈز فراہم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں 11 فیصد سے زائد اضافہ خوش آئند ہے کیونکہ ہماری مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رہنماؤں کے پاکستان مخالف بیانات کا بھی نوٹس لیاجانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرمی پبلک سکول پشاور کے طلبہ کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان کی حفاظت کے لئے فنڈز مختص کئے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت توانائی اور ماحولیات جیسے مسائل کے خاتمے کے لئے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے اور اس پر اتفاق رائے ہونا چاہیے، ایس آر اوز کے کلچر کے خاتمے کا فیصلہ بہت اچھا ہے، ہمیں توانائی کے حصول کے لئے متبادل ذرائع پر توجہ دینی چاہیے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ میٹرو بس پراجیکٹ کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جارہاہے بجٹ میں عام آدمی کے ریلیف دینے کیلئے خاطرہ خواہ اقدامات کئے گئے، جی ڈی پی گروتھ پچھلے سات سالوں کی بلند ترین سطح پر ہے، بجٹ خسارے کو ہر سال کم کیا جارہاہے، تعمیری تنقید ہونی چاہئے تاہم تنقید برائے تنقید کی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

پیپلزپارٹی کے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جارہی ہیں اس پر ہم ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں، اور گیارہ بجکر 15منٹ پر پر اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے عثمان کاکڑ نے کہا کہ تمام اداروں کو پارلیمنٹ کے ماتحت لایا جائے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کی پالیسیاں فوج اور انٹلیجنس ایجنسیاں چلا رہی ہیں، دفاع کے بجٹ میں گیارہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے جونہیں ہونا چاہئے تھا، مزدور کی تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے، بجٹ میں بلوچستان کا حصہ بہت کم رکھا گیا ہے، بلوچستان کا حصہ صرف دو فیصد ہے، زیادہ فنڈز پسماندہ صوبوں کو ملنے چاہئیں، مشرقی روٹ جو پاک چائینہ اقتصادی راہداری کاہے اس کیلئے 88 فیصد فنڈز رکھے گئے جبکہ مغربی روٹ کیلئے بارہ فیصد فنڈز رکھے گئے جو کہ اے پی سی کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، جاگیر داروں پر ٹیکس لگایا جائے اوردفاعی بجٹ کم کیا جائے۔

جن جرنیلوں، جاگیرداروں ، وڈیروں اور سیاستدانوں کے قرضے جو معاف کئے گئے ہیں ان سے وصول کئے جائیں اور جو زمینیں بیورو کریٹس اور جرنیلوں کو الاٹ کی گئی ہیں وہ یا تو واپس لی جائیں یا ان سے قیمت موجودہ ریٹ کے مطابق لی جائے، بلوچستان کو اپنا حق چاہئے کوئی خیرات نہیں مانگ رہے، مغربی روٹ کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور پھر اگر کوئی بات کریگا تو حکومت کہے گی کہ را کے کہنے پر کررہے ہیں، میری پارٹی اس بجٹ کو مسترد کرتی ہے۔

میاں محمد عتیق نے کہا کہ یہ بجٹ بھی روایتی بجٹ ہے حکومت اپنے ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ٹیکس نیٹ کو بڑھایا نہی گیا، کراچی میں پانی کا بحران ہے، حکومت نے اس کیلئے کوئی فنڈز نہیں رکھے گئے ، کراچی میں میٹرو بس کیوں نہیں چلائی جاتی؟ ان ڈائریکٹ ٹیکس کو بڑھایا گیا ، ایم کیو ایم اس بجٹ کو یکسر مسترد کرتی ہے۔چودھری تنویر خان نے کہا کہ میاں نواز شریف کو کہا جاتا ہے کہ وہ بھارت کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں جو رویہ بھارت کے وزیراعظم کا ہے وہی رویہ میاں صاحب اپنایاتو پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، آج مودی کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، میاں صاحب نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کیلئے ساڑھی کا تحفہ بھیجا، گلگت بلتستان کو گندم کی سبسڈی ختم کرنے کا بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا گیا، ایوان کی ایک کمیٹی بنائی جائے تو تعین کرے کہ کس کس نے قرضے معاف کروائے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ بجٹ میں تعلیم کیلئے بہت کم فنڈز رکھے گئے، بجٹ آئین کی متعدد شقوں سے متصادم اور عوام دشمن ہے، میں اس کو ری جیکٹ کرتا ہوں۔سعود مجید نے کہا کہ اگر ڈکٹیٹر کے دور میں بھارت سے معاہدہ کیا گیا اور ہمارے تین دریا بھارت کے سپرد کردیئے گئے اس سندھ طاس معاہدے کو ہمیں چیلنج کرنا ہوگا، موجودہ حکومت نے دو سال کے قلیل عرصے میں ترقیاتی بجٹ کو دگنا کیا۔

انفلیشن آج 8 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے ، دھرنا سیاست اور سیلاب کی وجہ سے ہم اپنے ٹارگٹ حاصل نہ کرسکے ہم نے لاہور اور راولپنڈی میں میٹرو چلائی ہے اور اب کراچی میں گرین لائن چلا رہے ہیں اس کے بعد ملتان اور کوئٹہ میں بھی چلائینگے، کے پی کے کو بھی پشاور کیلئے آفر کی ہے۔ستارہ ایاز نے کہا کہ فاٹا کیلئے حکومت نے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا، پورے بجٹ میں ڈویلپمنٹ کا کوئی ذکر نہیں نہ ہی خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ ہے، مسلم لیگ ن کی حکومت جب بھی آتی ہے خواتین کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اتنی دہشت گردی کے باعث نوجوانوں کیلئے کوئی جامع پلان نہیں ہے، معذور افراد کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے، بجٹ میں انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔

خالدہ پروین نے کہا کہ عوام کا ریاست سے اعتماد اٹھ تا جارہا ہے ہم ایوان کو جتنا بھی معزز سمجھتے ہیں عوام اسے ایسے نہیں سمجھتے ۔ پارلیمان کے اراکین جس قدر بے بس آج ہیں پہلے کبھی نہ تھے ، یہ سب سے بڑی ناکامی ہے جب تک یہاں انتظامی اصلاحات نہیں ہوتی عوام کو کچھ نہیں دے سکتے ، پارلیمان سے حقائق کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے، ہمارے سوالات کے جواب نہیں دیئے جاتے، پنجاب میں جنوبی پنجاب کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا جاتا، 106 ارب کے بجٹ میں صرف 14 ارب روپے رکھے جاتے ہیں، ہمارے باغات اجڑ رہے ہیں، نوجوان بیروزگار ہیں،ترقی کا پہیہ صرف لاہور میں چل رہا ہے۔

غوث محمد خان نیازی نے کہا کہ اپوزیشن نے صرف تنقید کی ہے، تجاویز نہیں دی ، خوش ہو کر ایوان میںآ ئے تھے کہ یہاں پڑھے لکھے اور ماہر لوگ ہونگے مگر یہاں تو عجیب ماحول ہے ایک دوسرے کو گالی دی جارہی ہے، نواز شریف کی ذات پر بات کی جارہی ہے بجٹ پر کسی نے بات نہیں کی، حکومت کی معاشی پالیسی کی وجہ سے ہماری معیشت مستحکم ہوئی ، اس وقت بیروزگاری عروج پر ہے، اس بجٹ میں روزگار کے مواقع میں اضافے کیلئے اقدامات کئے گئے کوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/06/2015 - 16:43:33

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں