پورے ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام ناممکن دکھائی دیتا ہے تاہم حکومت آرٹیکل 245 کا ..
تازہ ترین : 1

پورے ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام ناممکن دکھائی دیتا ہے تاہم حکومت آرٹیکل 245 کا سہارا لے سکتی ہے‘ جسٹس (ر) وجیہہ الدین

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 دسمبر 2014ء)جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پورے ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام ناممکن دکھائی دیتا ہے تاہم حکومت آرٹیکل 245 کا سہارا لے سکتی ہے،فاٹا اور سرحدی علاقوں میں جہاں فوج ہے وہاں تو فوجی ٹرابیونلز قائم ہوسکتے ہیں لیکن قدرے پرامن علاقوں میں ایسا ممکن نہیں۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج موجود ہے اس لیے حکومت اب سندھ سمیت دیگر صوبوں سے ایسی ہی درخواست کر رہی ہے جس کے بعد فوجی ٹرائبیونلز کو قانونی جواز فراہم کیا جاسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں حمایت کے باوجود ہوسکتا ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت کو ان جماعتوں کی جانب سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان جماعتوں کو اپنے حلقوں کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔ پاکستانی فوج اپنے انتظامی امور کے علاقوں میں فوجی عدالتیں قائم کرتی ہے۔ تاہم پورے ملک یا پھر چند مخصوص علاقوں کے لئے یہ کیسے ممکن ہوگا؟

وقت اشاعت : 25/12/2014 - 14:50:10

اپنی رائے کا اظہار کریں