کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کی جائے ‘ پنجاب اسمبلی میں ..
تازہ ترین : 1

کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کی جائے ‘ پنجاب اسمبلی میں قرارداد منظور

لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 دسمبر 2014ء) پنجاب اسمبلی کے ایوان نے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کے مطالبے سمیت مفاد عامہ سے متعلق تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں،جبکہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ پونے دوسال میں پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والی کسی ایک بھی قر ارداد پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا ،پارلیمانی سیکرٹری سجاد گجر کی جانب سے محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے متعلق سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہ آنے پر اراکین اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت دس بجے کی بجائے ایک گھنٹہ پانچ منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال کی صدارت میں شروع ہوا ۔ حکومتی خاتون رکن راحیلہ خادم حسین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ واسالاہور نے 2012-13کے دوران فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب کیلئے 93.248ملین روپے خرچ کئے ۔حکومتی رکن اشرف علی انصاری کے سوال کے جواب پر اسپیکر نے پارلیمانی سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کوسوچ سمجھ کر جواب دینا پڑے گا ۔

پارلیمانی سیکرٹری کی گھبراہٹ میں زبان پھسل گئی اور وہ گورننگ باڈی کوگورنر باڈی کہہ گئے اور بتایا کہ سیور مینوں کی بھرتی کیلئے واسا کی گورننگ باڈی 3سے 4 ماہ میں بھرتی مکمل کرلے گی ۔ امجد علی جاوید کے سوال کاغلط جواب آنے پر ا سپیکر نے مداخلت کی اور کہاکہ حقائق پر مبنی جواب دیں اور ہماری آنکھوں میں مٹی نہ ڈالیں ۔ صوبہ بھر کی واٹر سپلائی کیلئے بلاک ایلوکیشن کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری ایوان کو مطمئن نہ کر سکے اور کہاکہ اس کیلئے جاپان سے گرانٹ مل رہی ہے۔

ا سپیکر نے کہاکہ گرانٹ نہیں معاہدے ہوتے ہیں ۔قاضی عدنان فرید نے احمدپور شرقیہ بہاولپور میں اربن واٹر سپلائی سکیم کے متعلق سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ 12منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹ بھیجی ہے جب منظور ہو گی تو تب منصوبے پر کام ہو گا۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے اس پر کہاکہ یہ واضح کریں کہ منظوری کس نے دینی ہے ۔اسپیکر رانا محمد اقبال نے دوبارہ مداخلت کی اور پارلیمانی سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ یہ معاملہ قاضی عدنان فرید کے ساتھ میٹنگ میں طے کر لیں ۔

سردار وقاص حسن موکل کے مغلپورہ واسا لاہور کے متعلق سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہاکہ مغلپورہ واسا لاہور کاایس ڈی او 2لاکھ سے زائد آبادی کو صاف پانی پہنچانے کا بندوبست کرتا ہے اورپانی کی سپلائی بالکل ٹھیک ہے کہیں کوئی شکایت نہیں جس پر وقاض حسن موکل نے کہا سوال تیتر پوچھا ہے اور جواب بٹیر دیا جا رہا ہے ۔اسپیکر نے کہاکہ دونوں پرندے ہی تو ہیں ۔

علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں مفاد عامہ سے متعلق قراردادیں پیش کی گئیں جن میں سے تین کو متفقہ طور پر منطور کر لیا گیا ۔جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر سید وسیم اختر نے قرار داد پیش کی جس کے متن میں کہا کیا کہ وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں کی طرح پنجاب حکومت بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایسے تمام ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی مکمل پنشن بحال کرے جن کی عمر 75سال ہے ۔

اس موقع پر زکوة و عشر کے صوبائی وزیر ندیم کامران نے کہاکہ پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 75سال سے زائد ضعیف افراد کی پنشن کی بحالی کے سلسلے میں عدالت میں ایک ضمیمہ جمع کروا یا ہے کیونکہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور فیصلہ آتے ہی عدلیہ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے ۔جس پر ڈاکٹر وسیم اختر نے اپنی قرار داد واپس لے لی ۔

عظمیٰ بخاری نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہاکہ کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کرنے کیلئے موثر قانون سازی کی جائے ۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے عظمیٰ بخاری کی قرار داد پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اپنے معاملات کو طے کرنا چاہیے ۔انٹر نیٹ ‘ میڈیا اور مغربی میڈیا کی وجہ سے فحاشی پھیل رہی ہے جسکی وجہ سے بچے جلد بلوغت تک پہنچ جاتے ہیں ۔

اسلام میں بچے کے بلوغت تک پہنچنے کے بعد شادی کی اجازت ہے ۔۔قرارداد کی محرک مسلم لیگ (ن) کی عظمیٰ زاہد بخاری نے کہا کہ قرآن و سنت میں نو سال کی بچی کی شادی کہیں حکم نہیں ۔ قرآن و حدیث میں خواتین کے حقوق کیلئے سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے اور سورہ النساء میں واضح احکامات ہیں ۔میری قرار داد میں کم عمری کی بات کی گئی ہے بالغ کی نہیں اس کے بعد اس قرار داد کو متفقہ طو رپر منظور کرلیا گیا ۔

الحاج محمد الیاس چنیوٹی کی اسلامی نظریاتی کونسل کے مراسلہ کے مطابق اسلامی اقدار و ارکان کیلئے استعمال کیلئے جانے والے بعض انگریزی الفاظ کی اصلاح کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرار داد کو متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا ۔شمیلہ اسلم کی تمام تعلیمی اداروں میں مرحلہ وار ڈسپنسری کی سہولت کو لازمی قرار دینے کی قرار داد مخالفت کے باعث واپس لے لی گئی ۔

نگہت ناصر شیخ کی صوبہ بھر میں خواتین میڈیکل کالجز میں میڈیکل داخلے کے وقت طلبہ و طالبات سے حلف کی بنیاد پر 5سال کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے کیلئے پیش کی جانے والی قرار داد کو وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان میڈیکل ڈینٹل کونسل سے سفارش کی ترمیم کے ساتھ متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا۔قراردادوں کے پیش کئے جانے کے موقع پر پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار شہاب الدین نے کہا کہ ایوان میں پونے دو سال میں منظور ہونیوالی کسی بھی قرارداد پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/12/2014 - 17:44:29

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :