حکمرانوں نے طالبان کیخلاف آپریشن کے لیے جواز بنانا ہے تو کھل کر سامنے آئیں‘مولانا ..
تازہ ترین : 1

حکمرانوں نے طالبان کیخلاف آپریشن کے لیے جواز بنانا ہے تو کھل کر سامنے آئیں‘مولانا سمیع الحق،طاقت کا استعمال بہت کچھ بہا لے جائیگا،حکومت ہوش کے ناخن لے جوش سے کام لیا گیا تو لینے کے دینے پڑ جائینگے،وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا بیان حقائق کے منافی ہے ،آپریشن میں امریکی منشاء شامل ہے ‘ سربراہ جے یو آئی (س)

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء)جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے طالبان کیخلاف آپریشن کے لیے جواز بنانا ہے تو کھل کر سامنے آئیں،مسئلے کا حل آپریشن ہوتا تو آٹھ سال پہلے امن بحال ہو چکا ہوتا طاقت کا استعمال بہت کچھ بہا لے جائے گا،حکومت ہوش کے ناخن لے جوش سے کام لیا گیا تو لینے کے دینے پڑ جائینگے،وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا بیان حقائق کے منافی ہے ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو اور اپنے ایک بیان میں مولانا سمیع الحق نے حکومت کی جانب سے وضاحتی بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس وضاحت کے بعد طالبان سے مذاکرات میں حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور تو اور خود وزیر اعظم محمد نواز شریف ان سے ملاقات کے بعد ان کی کوئی بھی ٹیلیفون کال لینا گوارہ نہیں کی۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے کیا ہدایات جاری ہوئیں یہ سب ریکارڈ پر ہیں۔

مولانا سمیع الحق نے واضح کیا کہ حکمرانوں نے آپریشن کے لیے جواز بنانا ہے تو کھل کر سامنے آئیں مسئلے کا حل آپریشن ہوتا تو آٹھ سال پہلے امن بحال ہو چکا ہوتا، طاقت کا استعمال بہت کچھ بہا لے جائے گا۔ حکومت ہوش کے ناخن لے جوش سے کام لیا گیا تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ طالبان کے خلاف آپریشن امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے اس ممکنہ آپریشن کا ردعمل بھی ہو گا، طالبان کو کچلنے والوں کے مقاصد سب کے سامنے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کا مزید کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم سے ملاقات میں کیا ذمہ داری ملی تمام چیزیں ریکارڈ پرموجود ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ دوسری جانب سے اسی روز جواب آ گیا تھا لیکن وزیراعظم نوازشریف سے رابطہ کیلئے تین ہفتہ سے ٹیلی فون کررہا ہوں مگر کسی کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ طالبان کے خلاف آپریشن امریکی منشا ء کا حصہ ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/01/2014 - 21:29:41

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں