مولانا سمیع الحق کی مذاکراتی عمل سے دستبرداری سے طالبان کے موقف کی تائید ہوتی ..
تازہ ترین : 1
مولانا سمیع الحق کی مذاکراتی عمل سے دستبرداری سے طالبان کے موقف کی ..

مولانا سمیع الحق کی مذاکراتی عمل سے دستبرداری سے طالبان کے موقف کی تائید ہوتی ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان

پشاور(رحمت اللہ شباب۔اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔23 جنوری ۔2014ء)کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ مولانا سمیع الحق کی مذاکراتی عمل سے دستبرداری سے طالبان کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اے پی سی کے انعقاد کے بعد حکومت نے مذاکرات سے متعلق پرزور بیانات کاسلسلہ جاری رکھااور عملا مذاکرات شروع کرنے سے مکمل اجتناب برتا گیا، عوام کو دھو کا دینے کے لئے علماء کرام کو متحرک کرنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور ان سے منسوب ایک بیان بھی جاری کروایا گیا( اس بیان کی حقیقت کیا تھی ؟ہم ا چھی طرح اس سے آگاہ ہیں)، اسی دوران مسلسل طالبان کی سخت شرائط کا پروپیگنڈہ بھی کیا گیا ۔

ابھی کچھ عرصے سے پھر حکومتی وزرا کالعدم تحریک طالبان کے بارے میں پورے شد ومد سے مذاکرات سے انکار کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں،جبکہ تحریک طالبان کا اس حوالے سے موقف شروع دن سے ہی نہایت واضح ہے کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت اپنا اختیار اور اخلاص ثابت کرے ۔ماضی کے ناکام معاہدوں کی بنیادی وجہ حکومتوں کا بے اختیار اور اور غیر سنجیدہ ہونا ہی تھا، ہم اس حکومت کا بھی اصل اختیار انہی ہاتھوں میں سمجھتے ہیں جنہوں نے پورے ملک کو ایک فون کال پر ڈھیر ہو کر امریکہ کے حوالے کیا تھا،جنہوں نے لال مسجد کو معصوم طالبات کے خون سے رنگین کیااور سوات ووزیرستان سمیت ملک بھر میں اسلام سے محبت رکھنے والوں کو آتش وآہن کی سزا دی۔

اگر حکومت مخلص اور با اختیار ہوتی تو عین مذاکراتی عمل کے دوران مولانا ولی الرحمن اور امیر محترم حکیم اللہ مسعود کی شہادتوں کے واقعات کبھی پیش نہ آتے، بات در اصل یہ ہے کہ اس ملک میں ہمیشہ نادیدہ قوتوں کی حکمرانی رہی ہے ،جو کبھی اسلام اورملک کے وفادار نہیں رہے، ملک کے منتخب حکمران بھی دراصل انہی کے اشارئہ ابرو کے غلام ہوتے ہیں،لہذا ہونا وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتے ہیں۔

مولانا سمیع الحق صاحب کو اس عمل میں شریک کرنے کا مقصد بھی ایک سیاسی حربے سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں تھا،حقیقت حال سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود مولانا کے نمائندوں کو ہم نے مثبت جواب دیا ،جبکہ ہونا وہی تھا جو طے شدہ تھا ،مولانا کواپنے رابطوں پراس وقت سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑاجب ملاقات تو درکنار” مذاکرات کے زبردست حامی“چوہدری نثار صاحب سے فون پر بات کرنے کے لئے بھی انہیں مشکلات پیش آنے لگیں، بالآخر انہوں نے اس دھوکے اور سیاسی حربے والے مذاکرات کی حقیقت کا ادراک کر لیا اور اس عمل سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔

مولانا کے اقدام سے تحریک طالبان کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے ، کہ مولانا صاحب نے با لکل وہی باتیں کی ہیں جو ہم ہمیشہ سے کہ رہے ہیں کہ حکومت سنجیدہ اور مخلص نہیں ہے ، ورنہ مولانا کو تو خود انہوں نے رابطے کا ٹاسک دیا تھا۔۔۔۔؟؟ ہم پاکستان کے مسلمانوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک طالبان نے کبھی سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات سے انکار نہیں کیالیکن یہ منافق حکمران مذاکرات کے نام پر آپکی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے،اور لال مسجد و سوات آپریشن کی طرح ایک بار پھر شریعت کے متوالوں پر جنگ مسلط کرنا چاہتی ہے، تحریک طالبان کی طرف سے دو ٹوک موقف سامنے آنے کے باوجود یہ بات چیت سے کنی کترا کر امریکہ اور جرنیلوں کی منشا پوری کرنے کی راہ اپنا رہی ہے اور بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کر چکا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام مزید کسی تباہ کن جنگ کو سہنے کے ہرگز متحمل نہیں ہیں،قبائیلی عوام پر مسلط کی جانے والی اس جنگ کا نتیجہ ایک اور مشرقی پاکستان کے سانحے کی شکل میں رونما ہو سکتی ہے ،آج جنگ تو تم اپنی مرضی سے شروع کر لو گے لیکن کل ہم سے اس کے خاتمے کی بھیک مت مانگنا!!

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/01/2014 - 21:05:04

قارئین کی رائے :

  • قیصر کی رائے : 24/01/2014 - 02:35:49

    لگتا ہے مستقبل قریب میں قبائلی علاقے افغانستان کا حصہ بننے جارہے ہیں اور پاکستان کی حکومت گریٹ گیم کا حسہ بن چکی ہے جسطرح کہا جاتا ہے اٹیبلیشمنٹ نے بنگلہ دیش بنایا چونکہ وہ بنگالیوں کوسخت ناپسند کرتے تھے اور جان بوجھ کر ان کو ان کا حق نہ دیا بلکہ 30 لاکھ کے قریب عوام کو قتل کیا اور 5 لاکھ عورتوں سے جبری زنا کیا بلوچستان تو پہلے ہی شورش زدہ ہے

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں