پاکستان سپورٹس بورڈ کا صرف سرکاری اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کر نے والی فیڈریشن ..
تازہ ترین : 1

پاکستان سپورٹس بورڈ کا صرف سرکاری اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کر نے والی فیڈریشن کو گرانٹ جاری کر نے کا فیصلہ

اسلام آباد /لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23جنوری 2014ء)پاکستان سپورٹس بورڈ نے صرف سرکاری اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کر نے والی فیڈریشن کو گرانٹ جاری کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے کھیلوں کی قومی پالیسی پر عملدرآمد کی آڑ میں ملک کی کسی بھی کھیلوں کی فیڈریشن کو پچھلے سات ماہ سے ان کی سالانہ گرانٹ کی سہ ماہی قسط جاری نہیں کی جس کی وجہ سے ان کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے لگی ہیں ذرائع کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے پچھلے سال جولائی میں آخری مرتبہ کھیلوں کی فیڈریشن کو ان کی سالانہ گرانٹ کی قسط جاری کی تھی اس کے بعد اس نے کھیلوں کی قومی پالیسی کے حوالے سے فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی کی سفارشات پر ان کی گرانٹ بند کردی اس کا جواز یہ بتایا گیا کہ کمیٹی ان فیڈریشن کا ڈیٹا تیار کر رہی ہے جنہوں نے قومی اسپورٹس پالیسی پر عمل درآمد کردیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈیٹا میں اس بات کو بھی اہمیت دی گئی کہ گرانٹ صرف اس فیڈریشن کو جاری کی جائے گی جو سرکاری اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم کرے گی جبکہ حکومت کی جانب سے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو گرانٹ کی رقم جاری کردی گئی ہے، سات ماہ کے طویل عرصے سے گرانٹ نہ ملنے کی وجہ سے فیڈریشن اپنے قومی ایونٹ بھی منعقد نہیں کر پارہی ہیں۔ کئی ٹیموں کو بھی بیرون ملک عالمی اور ایشیائی مقابلوں میں شرکت کے لئے بھی نہیں بھیجا جاسکا۔

فیڈریشن کو گرانٹ نہ ملنے کے بارے میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈی جی امیر حمزہ گیلانی نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ قومی اسپورٹس پالیسی پر عمل درآمد اور فیڈریشن کا ڈیٹا جمع کرنے کی وجہ سے گرانٹ کے اجراء میں تاخیر کی گئی، اگلے ماہ تمام فیڈریشن کو گرانٹ جاری کردی جائے گی۔ دوسری جانب سرکاری اولمپک ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جس فیڈریشن نے قومی پالیسی کے تحت اپنے انتخابات کرا دئیے ہیں اور وہ سر کاری اولمپک ایسوسی ایشن کو تسلیم بھی کررہی ہیں ان کو گرانٹ جاری کر نے میں تاخیر کا کو ئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹ کے بغیر کوئی بھی فیڈریشن اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتی ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 23/01/2014 - 13:30:48

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں