لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا ..
تازہ ترین : 1

لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا دی،حکومتی نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کیا جائے ،عدالت تعین کریگی کیا انتظامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کر سکتی ہے؟چیف جسٹس

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22 جنوری ۔2014ء)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے آئین کے آرٹیکل 19-A کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے بارے میں درخواست نمٹا دی۔جبکہ معزز عدالت نے مزید کہا ہے کہ درخواست گزار حکومت کی طرف سے جاری کیا جانیوالا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کریں عدالت اس بات کا تعین کریگی کہ کیا انتظامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کر سکتی ہے؟ ۔

بدھ کے روز سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اوگر نے اپنے جواب میں لکھا ہے وہ قیمتیں مقرر نہیں کر رہے اب آپ کے پاس اطلاعات آگئی ہیں آپ اِس طریق کار کو عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں ۔اوگر کے وکیل ہارون ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے میں اور دیگر معاملات دیکھنے میں اوگرا کا کوئی کردار نہ ہے۔

مئی 2011ء میں اقتصادی کونسل کمیٹی نے تیل کی قیمتیں بھی ریگولیٹ کرنے کی اجازت دے دی اور وزارتِ پانی و بجلی نے اِس بابت نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ اِس نوٹیفکیشن کے تحت اوگر ا کا کردار بالکل ختم ہو گیا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں نیپرا متعین کرتی ہے اُس کیلئے باقاعدہ عوامی سماعت ہوتی ہے اعتراضات داخل کئے جاتے ہیں مگر پیٹرولیم کی مصنوعات بغیر کسی عوامی سماعت اور مواد سے مقرر کر دی جاتی ہے جو کہ اوگرا آرڈیننس کیخلاف ورزی ہے اوگرا نے پیٹرولیم کی قیمتوں کا تعین کرنے کیلئے کوئی رولز نہیں بنائے۔

یہ عوام کیساتھ سرا سر نا انصافی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایک ایگزیکٹو یعنی انتظامیہ یہ اختیار کیسے استعمال کر سکتی ہے آپ کے پاس نوٹیفکیشن آگیا ہے آپ کو اِس کو علیحدہ چیلنج کر سکتے ہیں ۔اوگر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اوگر بے بس ہے اور اُس کا پیٹرولیم کی قیمتوں کے تعین میں کوئی اختیار نہ ہے اگر مدعی اُس نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنا چاہتا ہے تو وہ کر سکتا ہے۔

درخواست محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اوگرا نے تمام معلومات دینے سے انکار کر دیا کیونکہ یہ اُس کی بدنیتی ہے ۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ بجلی اور پیٹرولیم کی قیمتوں کا براہِ راست عوام پر اثر پڑتا ہے اِسی لیے مفادِ عامہ میں یہ کیس سن رہی ہے آپ وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کیا جانیوالا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کریں اور عدالت اِس بات کا تعین کریگی کہ کیا انتظامیہ ریگولیٹری اتھارٹی کا اختیار ختم کر سکتی ہے؟ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آئینی درخواست اِس بنیاد پر واپس لے لی اور عدالت سے اجازت چاہی کہ وہ علیحدہ درخواست عدالت میں دائر کرینگے عدالت نے نئی درخواست دائر کرنے کی اجازت دیتے ہوئے یہ درخواست نمٹا دی۔

وقت اشاعت : 22/01/2014 - 20:52:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں