تحریک انصاف کا شمالی وزیرستان میں آپریشن اور انسداد دہشت گردی کی حکومتی حکمت ..
تازہ ترین : 1

تحریک انصاف کا شمالی وزیرستان میں آپریشن اور انسداد دہشت گردی کی حکومتی حکمت عملی پر گہری تشویش کا اظہار ، حکومت مذاکرات کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کرے ، ملک کی سکیورٹی صورت حال اور فوجی کارروائیوں پر پوری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کیلئے خفیہ اجلاس منعقد کیا جائے ، علاقے میں بمباری سے قبل عورتوں، بچوں اور معصوم شہریوں کا انخلاء یقینی بنانے کی ضرورت ہے،تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں مطالبہ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 جنوری ۔2014ء)پاکستان تحریک انصاف نے شمالی وزیرستان میں آپریشن اور انسداد دہشت گردی کی حکومتی حکمت عملی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کرے ، ملک کی سکیورٹی صورت حال اور فوجی کارروائیوں پر پوری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کیلئے خفیہ اجلاس منعقد کیا جائے ، علاقے میں بمباری سے قبل عورتوں، بچوں اور معصوم شہریوں کا انخلاء یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔

منگل کو اسلام آباد سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اہم ترین اجلاس چیئرمین عمران خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں، قیام امن کیلئے مذاکرات پر حکومت کی جانب سے اب تک کی حکمت عملی اور قبائلی علاقوں میں ممکنہ فوجی کارروائی کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت کے طرز عمل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ وزیراعظم نواز شریف بتائیں کہ اقتدار سنبھالنے کے 9ماہ بعد تک بھی حکومت دہشت گردی کے انسداد کی کوئی موثر پالیسی وضع کرنے میں کیوں ناکام ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت وضاحت کرے کے وزیراعظم ملک میں موجود دیگر سیاسی قیادت کو طالبان سے مذاکرات کیلئے آمادہ کر کے اپنی سیاسی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوششوں میں کیوں مصروف ہیں، جبکہ حکومت جانتی ہے کہ ایسا کرنے کا اختیار صرف اسی کے پاس ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کی زیر صدارت کور کمیٹی کے اجلاس نے مولانا سمیع الحق کے تازہ ترین بیان جس میں ان کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں ہے کا بھی نوٹس لیا اور ان کے اس دعوے پر کہ وزیراعظم نے ان کے ذریعے طالبان کو پیغام میں صرف پنجاب میں دہشت گرد کارروائیاں روکنے کیلئے درخواست کرنے کی کوشش کی ہے، پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

کور کمیٹی کے اعلامیے میں تحریک انصاف کی قیادت نے مسلم لیگ نواز کے انتخابی منشور کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت امریکی جاسوس طیاروں کے حملے رکوانے کیلئے اب تک اٹھائے جانے والے اقدامات سے قوم کو آگاہ کرے۔ اس سے قبل اجلاس میں تحریک انصاف کی قیادت نے تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے متواتر حملوں، جن میں معصوم شہری اور فوجی جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے انسداد کیلئے حکومت کی جانب سے واضع حکمت عملی کی تشکیل میں ناکامی کو مذاکرات کے ذریعے قیام امن کے امکانات تباہ کرنے کے بڑے عوامل قرار دیا۔

مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے معاملے کے حل کو اصولی بنیادوں پر استوار موقف قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا تھا کہ گفتگو پر آمادہ اور سخت گیر شدت پسند گروہوں کو الگ الگ کرنا انتہائی اہم ہے جس کا وعدہ تحریک انصاف نے اپنے انتخابی منشور میں بھی کیا۔ فوجی کارروائی کو حتمی اقدام قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی قیادت کا یہ کہنا تھا کہ تمام فوجی کارروائیوں کو قومی حمایت کی خاطر ہمیشہ سیاسی پشت پناہی اور رہنمائی فراہم کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی فوج، جس کے جوان پہلے ہی بڑی تعداد میں پاکستان کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں کو سیاسی حمایت کے بغیر تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ کور کمیٹی اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف افواج پاکستان کی قربانیوں کو برملااعتراف کرتی ہے اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں تحریک انصاف کی قیادت نے 9ماہ گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی عدم تشکیل پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے دریافت کیا کہ کیا حکومت نے کل جماعتی کانفرنس کی جانب سے سونپی جانے والے ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ابھی تک کیا کچھ کیا اور کیا گزشتہ 9ماہ میں شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوئی کوشش کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مذاکرات کے انعقاد سے قبل امریکہ ڈرون حملے کے ذریعے بات چیت کے پورے عمل کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ اجلاس میں تحریک انصاف کی قیادت نے شمالی وزیرستان میں ممکنہ فوجی آپریشن پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ فوجی کارروائیوں کی تاریخ انتہائی دردناک ہے۔ خصوصاً قبائلی علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فضائی حملے کے دوران مقامی آبادی کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا جس کی وجہ سے بچے بھی لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں فضائی بمباری سے قبل معصوم لوگوں خصوصاً عورتوں اور بچوں کا انخلاء یقینی بنایا جائے۔

وقت اشاعت : 21/01/2014 - 21:40:03

اپنی رائے کا اظہار کریں