پشاور جوڈیشل کمپلیکس پر دھماکہ میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے،جسٹس دوست ..
تازہ ترین : 1

پشاور جوڈیشل کمپلیکس پر دھماکہ میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے،جسٹس دوست محمد خان، ملک میں زیادہ عرصہ آمریت رہنے سے رول آف لاء کو نقصان پہنچا ،جہاں پر رول آف لاء نہ ہو تو وہاں رول آف جنگل ہوتا ہے،ملک کے موجودہ تمام مسائل کے حل کا صرف ایک ہی نسخہ ہے کہ ملک میں آئین کی عمل داری قائم ہو، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا تقریب سے خطاب ۔ تفصیلی خبر

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21 جنوری ۔2014ء)چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ پشاور جوڈیشل کمپلیکس پر دھماکہ میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور ان واردات کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ بھی معلوم ہوگئے ہیں پاکستان کے دشمن بہت ہیں لیکن ظاہری طور پر صرف ایک کا نام لیا جارہے ہے باقی کے نام نہیں لئے جاتے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس پشاور میں اپنے اعزاز میں منعقد ہونیوالے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ پشاور جوڈیشل کمپلیکس پر دھماکہ میں ملوث ملزمان کا سراغ لگا لیا گیا ہے اور اس واردات کے پیچھے جو مقاصد تھے وہ بھی معلوم ہوگئے ہیں دھماکہ میں ملوث دو دہشت گرد پنجاب چلے گئے ہیں جبکہ ایک قبائلی علاقہ میں روپوش ہے جو اس وارادت کا ماسٹر مائینڈبھی ہے لیکن ان دہشت گردوں نے اس واردات کے بعد پشاور کا رخ نہیں کیا تاہم روزانہ کی بنیاد پر ان کی نگرانی کی جارہی ہے اور ان دہشت گردوں کوگرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس واقعہ کے بعددہشت گردوں نے 15سے زائد مرتبہ حملہ کی کوشش کی لیکن ہماری طرف سے سکیورٹی کی بہتر ین اقدامات کے باعث وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ ملک میں زیادہ عرصہ آمریت رہی جس کی وجہ سے رول آف لاء کو نقصان پہنچا اور جہاں پر رول آف لاء نہ ہو تو وہاں رول آف جنگل ہوتا ہے اور پھر وہاں پر آئین کی عمل داری نہیں ہوتی ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25کے تحت سب شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور اسی طرح صدر کا بھی ایک ووٹ ہوتا ہے اور شہری کا بھی ایک ووٹ ہوتا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کے موجودہ تمام مسائل کے حل کا صرف ایک ہی نسخہ ہے کہ ملک میں آئین کی عمل داری قائم ہو چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ لوگوں کا اعتماد عدلیہ پر بڑھ چکا ہے جس کا ثبوت عدالتوں کی طرف لوگوں کا رخ کرنا ۔

طاقتور طاقت کی زور پر غریب کو دباتا ہے ۔جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ لالچ نے لوگوں کو اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ انہیں نہ قانون اور نہ اللہ کا خوف ہے جبکہ ملک کے ادارے بھی ناکارہ پرزے بن چکے ہیں ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ حکومت کی مدد کریں اور ان اداروں کو فعال کرکے حالات کو کنٹرول کریں کیوں کہ یہ ریاست کی ناکامی کا باعث بنتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ ججز کا کام انصاف فراہم کرنا ہے اوریہ ان کا آئینی فریضہ ہے ۔

وقت اشاعت : 21/01/2014 - 21:17:38

اپنی رائے کا اظہار کریں