پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ایک بار پھر 194ارب روپے تک جا پہنچے
تازہ ترین : 1
پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ایک بار پھر 194ارب روپے تک جا پہنچے

پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ایک بار پھر 194ارب روپے تک جا پہنچے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔21جنوری۔2014ء)پاور سیکٹر کے گردشی قرضے پھر 194ارب روپے تک پہنچ گئے ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی نے آئی پی پیز کو ادا کیے گئے 480ارب روپے کی تھرڈ پارٹی آڈٹ رپورٹ طلب کر لی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پانی وبجلی کا اجلاس زاہد خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا ، اراکین کمیٹی نے بجلی کی گھنٹوں لوڈ شیڈنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کو ادائیگیوں کے بعد بھی ایسی صورتحال کیوں ہے ،بتایا جائے کس بجلی کی پیداواری کمپنی کو کتنی ادائیگی کی گئی اور اس کے بعد ان کمپنیز نے بجلی کی کتنی پیداوار بڑھائی ؟ پیپکو حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فاٹا سے بجلی بلز کی وصولیاں بہت مایوس کن ہیں جبکہ بلوچستان کی طرف 81ارب روپے ٹیوب ویل سبسڈی کی مد میں بقایا جات ہیں ، آزاد کشمیر30ارب روپے ، خیبر پختونخوا 18ارب جبکہ پنجاب 12ارب روپے کا نادہندہ ہے۔

کمیٹی نے فاٹا میں بجلی بلز کی وصولیاں بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

وقت اشاعت : 21/01/2014 - 12:48:32

اپنی رائے کا اظہار کریں