خصوصی عدالت ، چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہو نی چاہئے تھی،انور منصور
تازہ ترین : 1
خصوصی عدالت ، چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہو نی چاہئے تھی،انور منصور

خصوصی عدالت ، چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہو نی چاہئے تھی،انور منصور

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20جنوری 2014ء)پرویز مشرف غداری کیس میں ان کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالت کے قیام کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہونا چاہیے تھی۔ ججز نامزدگی کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو ہے پرویز مشرف غداری کیس کی خصوصی عدالت میں سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے دلائل جاری رکھے۔

انھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کیلئے ججز کی نامزدگی کا اختیار صرف وفاقی حکومت کو ہے ، جس پر جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ججز نامزدگی کیلئے مشاورت بے معنی ہے، جس پر انور منصور نے جواب دیا کہ چیف جسٹس سے مشاورت نہیں ہونا چاہیے تھی، صرف وفاقی کابینہ کو اختیار ہے کہ وہ ججز کا چناؤ کرتی ، حکومت ججز کے چناؤ کے بعد چیف جسٹس کو صرف آگاہ کر سکتی تھی، تقرری ہائی کورٹ کے ججز کی ہونی تھی تو ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز سے کیوں نہیں پوچھا گیا؟؟انور منصور نے وزیراعظم کے بیان سے متعلق روزنامہ جنگ کا اخباری تراشہ بھی عدالت میں پیش کیا جس میں نواز شریف کے جیو نیوز کے اینکر سلیم صافی کو دیئے گئے انٹرویو کا ذکر ہے۔

انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے انٹرویو میں کہا تھا کہ آرٹیکل 6 کی کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر عمل میں آئی، ان کا کسی سے کوئی ذاتی عناد یا دشمنی نہیں، انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے انٹرویو میں کہا تھا کہ خصوصی عدالت کے ججز کے نام بھی انہیں دیئے گئے تھے۔

وقت اشاعت : 20/01/2014 - 13:13:22

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں