ایک طرف آپریشن اور دوسری طرف مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، فورسز پر حملے کے ذمہ ..
تازہ ترین : 1

ایک طرف آپریشن اور دوسری طرف مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، فورسز پر حملے کے ذمہ داری وزیر اعظم ہیں ،عمران خان ،پاکستان کے دشمن جنگ چاہتے ہیں، ہم طالبان کے نہیں پاکستان کے حامی ہیں ،ملک میں امن پی ٹی آئی اے ہی لے کر آئیگی ، پاکستان کو خود مختار بنائینگے ، ہمیں کسی کے آگے جھولی نہیں پھیلاناپڑیگی ،تحریک انصاف کے سربراہ کا ہری پور میں جلسے سے خطاب ۔ تفصیلی خبر

ہری پور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔19 جنوری ۔2014ء)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ایک طرف آپریشن اور دوسری طرف مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، پاکستان کے دشمن جنگ چاہتے ہیں، ہم طالبان کے نہیں پاکستان کے حامی ہیں ، سیکیورٹی فورسز پر حملے کے ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف ہیں ،ملک میں امن پی ٹی آئی اے ہی لے کر آئیگی ، پاکستان کو خود مختار بنائینگے ، ہمیں کسی کے آگے جھولی نہیں پھیلاناپڑیگی۔

اتوار کو ہری پور ہزارہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ بنوں میں شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے ورثاء سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، جب بھی ملک میں امن کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی حادثہ ہو جاتاہے۔ پاکستان کے دشمن وزیرستان میں جنگ چاہتے ہیں، امریکی امداد سے زیادہ پاکستان کا نقصان ہوا ہے اسٹیٹ بنک کے مطابق 100ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

عمران خان نے کہاکہ انہوں نے نوازشریف کو ہسپتال میں کہا تھا کہ ملک میں امن قائم کرنا ہے، اگر میں وزیراعظم ہوتا تواس ملک میں امن کے لئے کوششیں کرتا۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ اس ملک میں اگر کوئی جماعت امن لے کر آئی تو وہ پی ٹی آئی ہوگی عمران خان نے کہاکہ گزشتہ 10 سال سے پاکستان امریکا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، ا نہوں نے کہاکہ امریکا دھمکی دیتا ہے کہ اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہ کیا گیا اور نیٹو سپلائی کا راستہ نہ کھولا گیا تو پاکستان کی امداد روک لی جائے گی مگرتحریک انصاف پاکستان کو ایک خود مختار ملک بنائے گی جہاں پر امن ہو گا اور ہمیں کسی کے آگے جھولی نہیں پھیلانا پڑے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہاکہ جب بھی طالبان سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تو الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم طالبان کے حامی ہیں، ہم طالبان کے نہیں پاکستان کے حامی ہیں اور ملک میں امن چاہتے ہیں۔ عمران خان نے کہاکہ 2006 سے پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا کسی نے نام بھی نہیں سنا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے حکمران امریکا کے غلام ہیں کیونکہ ان کا پیسہ باہر کے بینکوں میں پڑا ہوا ہے اور ان کے بچے بیرون ممالک تعلیم حاصل کر رہے ہیں، قوم غریب اور ایک چھوٹا سا طبقہ امیر ہو رہا ہے صرف وہ لوگ امیر ہو رہے ہیں جن کا پیسہ ملک سے باہر ہے۔

عمران خان نے کہاکہ پاکستان کا قرضہ آج 15 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، ڈالر 60 روپے سے 107 تک پہنچ گیا ہے، اگر اسی طرح امریکا کی غلامی کرتے رہے تو آگے مہنگائی، غربت اور ذلت ہی ذلت ہے۔عمران خان نے کہاکہ بنوں جیسے دو تین مزید حملے ہو گئے تو کہا جائے گا کہ حملہ کر دو، نواز شریف اے پی سی بلا کر مذاکرات کے بارے میں بتانا چاہیے۔

وقت اشاعت : 19/01/2014 - 20:05:05

اپنی رائے کا اظہار کریں