انگوٹھوں کی تصدیق کے معاملے پر چیئرمین نادرا کودھمکیاں دی گئیں ، استعفیٰ دینے ..
تازہ ترین : 1

انگوٹھوں کی تصدیق کے معاملے پر چیئرمین نادرا کودھمکیاں دی گئیں ، استعفیٰ دینے پرمجبور ہوگئے ،چیف جسٹس نوٹس لیں ،عمران خان ،طالبان سے اب تک مذاکرات کیوں نہیں کئے گئے؟لگتا ہے بات چیت کا میچ بھی فکسڈ ہے ،مذاکرات کی بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، خیبر پختونخوا میں پولیو کی شرح میں اضافے میں تھوڑا بہت شکیل آفریدی کا بھی ہاتھ ہے ، تحریک انصاف کے سربراہ کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17 جنوری ۔2014ء)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انگوٹھوں کی تصدیق کے معاملے پر چیئرمین نادرا طارق ملک کو حکومتی اراکین کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں ، استعفیٰ دینے پرمجبور ہوگئے ،چیف جسٹس معاملے کا نوٹس لیں ،طالبان سے اب تک مذاکرات کیوں نہیں کئے گئے؟لگتا ہے بات چیت کا میچ بھی فکسڈ ہے ،مذاکرات کی بجائے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، خیبر پختونخوا میں پولیو کی شرح میں اضافے میں تھوڑا بہت شکیل آفریدی کا بھی ہاتھ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خا ن نے کہاکہ حکومت کی جانب تعینات کئے جانے والے نئے چیرمین نادرا کہتے ہیں کسی کے ہاتھ پر مہندی لگی ہو تو اس کے انگوٹھے کے نشان کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایک حلقے میں کتنے ووٹرز ایسے ہوں گے جنہوں نے اپنے ہاتھ پر مہندی لگائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے انہیں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہوگیا کہ حکومت کیا سوچ کر نادرا کے نئے چیرمین کو لائی ہے، چیف جسٹس اس تمام معاملے کا نوٹس لیں، ہم حکومت گرانے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے تاہم اگر ووٹوں کی تصدیق اور دیگر معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو حکومت کو کسی صورت چھوڑیں گے بھی نہیں،پاکستان میں دھاندلی سیکھے بغیر کوئی امیدوار انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا اورعام انتخابات میں الیکشن کمیشن نیوٹرل نہیں بلکہ میچ فکسنگ میں ملوث تھا۔

طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے عمران خان نے کہاکہ 9 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں امریکا کی حمایتی جماعتوں نے بھی مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا، نواز شریف آل پارٹیز کانفرنس بلا کر بتائیں کہ مذاکرات کا کیا بنا، وزیر داخلہ کہتے ہیں مذاکرات درست سمت بڑھ رہے تھے تاہم امریکی ڈرون حملے کی وجہ سے ناکام ہوگئے اس کے بعد وزیراعظم نے امریکا سے ڈرون حملے بند کرانے کے لئے کیا اقدامات کئے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات نہ کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے جبکہ اس حوالے سے مولانا سمیع الحق بھی کہہ چکے ہیں حکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، ملک میں ایک مہم چل رہی ہے جس کے تحت پاکستان کو مسلسل اس جنگ میں ملوث رکھا جارہا ہے، جو لوگ امن کی بات کرتے ہیں انہیں طالبان اور آپریشن کی بات کرنے والوں کو لبرل کہا جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پشاور کو پولیو کا گڑہ قرار دیئے جانے سے متعلق ایک سوال پر عمران خان نے کہاکہ پولیو بہت بڑا مسئلہ ہے اور یہ پچھلے 6 مہینوں سے نہیں کئی سالوں سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پولیو کی شرح میں اضافے میں تھوڑا بہت شکیل آفریدی کا بھی ہاتھ ہے۔ امریکا کی جانب سے جاسوسی کے لئے ہیلتھ ورکرز کو استعمال کرنے کے بعد پولیو ٹیموں پر حملے اس کا رد عمل ہیں تاہم اب دھمکیوں اور خطرات کے باوجود ایک بار پھر پولیو مہم شروع کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہاکہ پاکستان کو جنگ میں لپیٹنے کے لیے ایک مہم چل رہی ہے، پرویز خٹک 2 ماہ سے وزیراعظم سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں تاہم وزیراعظم کے پاس ملنے کا وقت ہی نہیں عمران خان نے کہاکہ میں نے نواز شریف سے پوچھا تھا اگر مذاکرات کے دروان ڈرون حملہ ہو گیا تو کیا کریں گے تو انہوں نے کہا تھا اقوام متحدہ جائیں گے۔ ایک سوا ل کے جواب میں عمران خان نے کہاکہ طالبان نے بار بار کہا ڈرون رکوائیں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں انہوں نے کہاکہ میں نواز شریف سے کہتا ہوں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں۔ انہوں نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں کیونکہ ملک کو تباہی سے بچانے کے لئے صاف انتخابات کا ہونا ضروری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/01/2014 - 21:07:43

اپنی رائے کا اظہار کریں