لنڈی کوتل میں خاصہ دار فورس کی گاڑی پر نصب بم دھماکہ، ایک خاصہ دار جاں بحق ، نائب ..
تازہ ترین : 1

لنڈی کوتل میں خاصہ دار فورس کی گاڑی پر نصب بم دھماکہ، ایک خاصہ دار جاں بحق ، نائب صوبیدار زخمی

لنڈی کوتل(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16جنوری 2014ء)لنڈی کوتل میں خاصہ دار فورس کی گاڑی پر نصب بم دھماکے کے نتیجے میں ایک خاصہ دار جاں بحق اور نائب صوبیدار زخمی ہو گیا۔خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں خاصہ دار فورس کی گاڑی پر نصب بم دھماکے کے نتیجے میں خاصہ دار فورس کے اہلکار الیاس ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ نائب صوبیدار سمر زخمی ہو گیا۔دونوں اہلکار سگے بھائی ہیں۔دھماکے سے گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کی جگہ پر دوسرے بم کی موجودگی کی اطلاع پر سب کی دوڑیں لگ گئیں۔بعد میں بم ڈسپوزل سکواڈ نے دھماکے کی جگہ کو کلیئر کر دیاانتظامیہ کی جانب سے جاں بحق ہونیوالے اہلکار کو ایک لاکھ روپے دئیے گئے ہیں۔

وقت اشاعت : 16/01/2014 - 14:04:45

قارئین کی رائے :

  • Amir Nawaz Khan Says : 16/01/2014 - 15:22:49

    طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں ۔ انتہا پسند داخلی اور خارجی قوتیں پاکستان میں سیاسی اور جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی کو ششیں کر رہی ہیں .خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں بار پوری انسانیت کاقتل کرنے والے اسلام کو ماننے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟ خودکش حملوں کے تناظر میں تمام مکاتب فکر بشمول بریلوی، دیو بندی ، شیعہ ، اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے جید علماء پاکستان میں خود کش حملوں کو حرام قرار دے چکے ہیں ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اورپرائیوٹ، ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، تعلیمی اداروں ،طالبعلموںاور اساتذہ اور مسجدوں پر حملے کرنا اور نمازیوں کو شہید کرنا ، عورتوں اور بچوں کو شہید کرناخلاف شریعہ ہے اور جہاد نہ ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.کیا طالبان نے رسول اکرم کی یہ حدیث نہیں پڑہی، جس میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے

    Reply to this comment

اپنی رائے کا اظہار کریں