ڈی جی پی بی سی ثمینہ پرویز نے رواں سال سرکاری خرچ پر حج ادا کیا ہے ،پبلک اکاؤنٹس ..
تازہ ترین : 1

ڈی جی پی بی سی ثمینہ پرویز نے رواں سال سرکاری خرچ پر حج ادا کیا ہے ،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ،حج ادا کرنے کے بعد پیسے ادا کردئیے تھے ، ثمینہ پرویز ،آئندہ کوئی حکومتی آفسر سرکاری خرچے سے حج ادا نہ کرے ، کمیٹی کی ہدایت ،کمیٹی کے چیئر مین سید خورشید اشاہ نے1999 لیکر 2008 تک مکمل ہونے والے تمام منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 جنوری ۔2014ء)پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈی جی پی بی سی ثمینہ پرویز نے رواں سال سرکاری خرچ پر حج ادا کیا ہے۔ بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین خورشید شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوٴس میں ہوا، کمیٹی نے وزارت اطلاعات کا آڈٹ کا جائزہ لیا اور ایف ایم 101 کی مارکیٹنگ کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو دینے سے متعلق امور پر غور کیا۔

اجلاس میں چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے سوال کیا کہ حج پر دو نیوز کاسٹر جاتے ہیں، اس سال کون حج پر گیا اس پر ڈی جی پی بی سی ثمینہ پرویز نے کہا کہ اس بار انہوں نے اپنا نام بھیجا تھا۔ اس پر کمیٹی ارکان نے سوال کیا کہ آپ نے بغیر اجازت کے حج کیوں کیا؟، ڈی جی ریڈیو نے جواب دیا کہ انہوں نے اس کی وزیر سے اجازت لی تھی۔وزارت اطلاعات کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حج سے متعلق وزارت کے فناشل مینجر سے اجازت نہیں لی گئی۔

ثمینہ پرویز نے بتایا کہ انہوں نے حج ادا کرنے کے بعد پیسے ادا کردئیے تھے تاہم اس حوالے سے جو بھی سزا دی جائے وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ آئندہ کوئی حکومتی آفسر سرکاری خرچے سے حج ادا نہ کرے۔شیخ رشید احمد نے اجلاس میں کہا کہ پاکستان ریڈیو میں کام کرنے والے ملازمین کو آج بھی 4200 روپے تنخوا مل رہی ہے، یہ ملازمین سات سال سے کام کرہے ہیں۔

اس پر ثمینہ پرویز نے کہا کہ یہ کنٹریکٹ ملازمین ہیں اگر یہ مہینہ کے سات دن کام کرتے ہیں تو ان کو سات ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ آپ کی معلومات غلط ہیں۔اجلاس کے دور ان پرانے آڈٹ اعتراضات کا جائزے لینے کیلئے تین ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی، شفقت محمود کی سربراہی کمیٹی میں 1998 سے لیکر 1999 تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لے گی۔

نوید قمر کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی 2002سے 2003 اورعاشق گوپانگ کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی 2007سے 2008تک کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لے گی جبکہ2010 سے 2013 تک کے تمام اعتراضات پبلک اکاوٴنٹس میں نمٹائے جائیں گے۔کمیٹی کے چئیرمین خورشید شاہ نے کہاکہ یک سال میں تمام بیک لاگ کلیئر کر لیں گے، 1999 سے لیکر 2008 تک مکمل ہونے والے تمام منصوبوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبے قومی خزانے کے کھربوں روپے ہڑپ کر چکے ہیں۔

وقت اشاعت : 15/01/2014 - 21:02:15

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں