امریکہ کے سوا دنیا کے تمام خطوں میں مذہب کی بنیاد پر سماجی نفرت اور پابندیوں میں ..
تازہ ترین : 1

امریکہ کے سوا دنیا کے تمام خطوں میں مذہب کی بنیاد پر سماجی نفرت اور پابندیوں میں اضافہ ہوا ، تحقیق

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15جنوری 2014ء) ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے سوا دنیا کے تمام خطوں میں مذہب کی بنیاد پر سماجی نفرت اور پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتوں اور مخالف عقیدے کے لوگوں کے ہاتھوں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کیخلاف تشدد اور امتیاز بڑھا ہے ۔رپورٹ کے مطابق 25 سے زیادہ آبادی والے ملکوں میں سے پاکستان، مصر، انڈونیشیا، روس اور برما میں لوگوں کو حکومت اور مخالف عقیدے کے گروہوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر سب سے زیادہ پابندیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

امریکی تجزیاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کی گئی تحقیق میں دنیا کے 198 ممالک میں 2007 سے 2012 تک کے حالات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں دنیا بھر میں حکومتوں اور مخالف عقیدے کے گروہوں کے ہاتھوں مذہب کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے امتیاز، عناد، پابندیوں اور تشدد کو دیکھا گیا ،198 ملکوں کو انتہائی بلند، بلند، معتدل اور کم شرح کے چار درجوں میں بانٹا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانچ برسوں میں دنیا کے 43 فیصد ملکوں میں عقیدے کی بنیاد پر سماجی مخاصمتوں کی سطح بلند یا انتہائی بلند پائی گئی ہے جبکہ 2007 میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کیخلاف عناد کی بلند یا انتہائی بلند شرح دنیا کے 29 فیصد ملکوں میں پائی جاتی تھی۔رپورٹ میں مذہبی گروہوں کیخلاف تشدد اور امتیاز کی حالت کا آبادی کے لحاظ سے بھی جائزہ پیش کیا گیا جس کے مطابق 2007 میں دنیا کی 68 فیصد آبادی کو بلند یا انتہائی بلند امتیاز کا سامنا تھا مگر 2012 میں ایسے امتیاز کا سامنا کرنیوالی آبادی کی شرح بڑھ کے 76 فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سوائے امریکہ کے دنیا کے ہر بڑے خطے میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ چیز سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھی ہے جو اب بھی 2010 اور 2011 کے دوران شخصی آمریتوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں کے اثرات سے گزر رہے ہیں۔پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق دنیا میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ سکھوں، بہائیوں اور ملحد افراد کے خلاف تشدد آمیز رویہ بڑھا جبکہ اس کے برعکس ہندووٴں اور بودھوں کو ایسے رویئے کا کم ہی سامنا کرنا پڑا۔

ادارے کے مطابق 2012 میں دنیا کے 110 ممالک میں عیسائیوں، 109 میں مسلمانوں جبکہ 77 میں یہودیوں کو یا تو حکومت یا پھر سماجی سطح پر جارحانہ رویئے کا سامنا رہا۔رپورٹ کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں بھی مذہبی منافرت اور تشدد میں معنی خیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں چین پہلی بار اس معاملے میں ہائی کیٹیگری میں شامل ہوگیا ہے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/01/2014 - 16:22:44

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں