سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت ..
تازہ ترین : 1

سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت اور انجنیئر امیر مقام پر ہونیوالے بم حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت،خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان پر کڑی تنقید ،عمران میں جراًت ہے تو حکومت سے مستعفی ہو جائیں ،تاریخ میں لکھا جائے گا کہ دہشتگردی کیخلاف قومی اتفاق رائے میں تحریک انصاف نے دراڑیں ڈالیں ،مولانا غفور حیدری، فرحت اللہ بابر،صوبائی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف سیاسی اونر شپ ختم کر دی ہے ، حکومت ان کیمرہ اجلاس بلا کر طالبان سے مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لے اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ پیش کرے ، رضا ربانی، طالبان سے معاہدے کے بعد عوام کو بتایا گیا تو مناسب نہیں ہو گا، خیبر پختونخوا میں اشرافیہ بھتہ دینے پر مجبور ہے ، عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ، مثالی صوبہ بنانے کی باتیں کرنیوالوں کیلئے اب وہاں جانا مشکل ہو گیا ہے ، افراسیاب خٹک، حاجی عدیل ، زاہد خان ، عبد الرؤف ، کلثوم پرویز، مشاہداللہ اور دیگر کا سینیٹ میں اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13 جنوری ۔2014ء)سینیٹ میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے اے این پی کے نائب صدر میاں مشتاق کی شہادت اور انجنیئر امیر مقام پر ہونیوالے بم حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت اور عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر ان میں جراًت ہے تو حکومت سے مستعفی ہو جائیں تاریخ میں لکھا جائے گا کہ دہشتگردی کیخلاف قومی اتفاق رائے میں تحریک انصاف نے دراڑیں ڈالیں ،صوبائی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف سیاسی اونر شپ ختم کر دی ہے حکومت ان کیمرہ اجلاس بلا کر طالبان سے مذاکرات پر ایوان کو اعتماد میں لے اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ پیش کرے ، طالبان سے معاہدے کے بعد عوام کو بتایا گیا تو مناسب نہیں ہو گا۔

خیبر پختونخوا میں اشرافیہ بھتہ دینے پر مجبور ہے ، عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ، مثالی صوبہ بنانے کی باتیں کرنیوالوں کیلئے اب وہاں جانا مشکل ہو گیا ہے ۔پیر کو سینیٹ کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہمارے نائب صدر میاں مشتاق کو دو ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا امیر مقام پر بھی شانگلہ میں حملہ ہوا اور ہنگو میں خود کش حملہ آور کو اعتزاز حسن نے روک کر سینکڑوں نوجوانوں کو بچایا صوبے میں بڑے بڑے واقعات ہوئے ہیں اس کے علاوہ اغواء کے واقعات ہو رہے ہیں لوگوں سے بھتہ لیا جا رہا ہے، مختلف کاروبار کرنے والے کارخانے چھوڑ کر جا چکے ہیں جب ہم حکومت میں تھے تو اس وقت بھی واقعات ہوتے تھے لیکن حکومت میں شامل جماعتیں اور پولیس دہشتگردوں سے لڑ رہی تھی پولیس کو حوصلہ تھا کہ انکے پیچھے سیاسی جماعت کھڑی ہے اب پولیس کو کچھ پتہ نہیں کہ وہاں کی حکومت اور عمران خان کی دہشتگردوں کے حوالے سے کیا پالیسی ہے دہشتگردوں کو بھائی کہا جاتا ہے اور دفتر کھولنے کی اجازت دینے کی بات کی جاتی ہے جب صوبے میں امن و امان کی صورتحال ایسی ہو تو گھر سے باہر نہیں نکل سکتے وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر بھی رات کو باہر نہیں جا سکتے۔

تمام سیکیورٹی فورسز ، فوج اور دیگر اداروں کی سیکیورٹی پر مامور ہے ہم سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی دہشتگردی ہمارا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ایوان سے گزارش ہے کہ ایجنڈے کی کارروائی سے قبل اس پر بحث کی جائے اس موقع پر قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے حاجی عدیل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کی پریشانی اور دکھ میں اظہار یکجہتی کرتے ہیں یہ سنگین مسئلہ ہے اس کو کنٹرول کرنے والے پورے طریقے سے توجہ نہیں دینگے عمران خان نے خود کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور وزیراعلیٰ سے مایوس ہوں اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے اس معاملے پر بحث کی اجازت دی ۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے اے ا ین پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ دہشتگردی کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے جب ہماری حکومت تھی تو اس وقت ایک عزم ہم دہشتگردی کیخلاف کھڑے تھے سوات آپریشن کی قیمت ادا کی لیکن انتخابات کے بعد ایسی حکومت آئی جس نے لاٹری بھی نہیں خریدی اور اس کی لاٹری نکل آئی ۔ خیبر پختونخوا میں حکومت کی گرفت کمزور ہو رہی ہے صوبہ دہشتگردوں کے نرغے میں ہے بڑے پیمانے پر بھتہ وصول ہو رہا ہے اشرافیہ بھتہ دے رہے ہیں امیر مقام سے بھی بھتے کا مطالبہ کیا گیا تھا انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ریاست کی اجارہ داری نہیں رہی مایوس کن وزیر اعلیٰ کو عمران خان نے کیوں وہاں بٹھایا ہوا ہے اگر ایسی صورتحال پنجاب میں ہوتی تو کیا ریاست تماشہ دیکھتی ہمارے صوبے سے سرمایہ کار پنجاب جا رہے ہیں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے ریاست تماشائی بنی ہوئی ہے سیاست سے بالا تر ہو کر تمام جماعتیں ملک کو بچائیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ صوبے میں حکومت کی رٹ ختم ہو رہی ہے ملک میں کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے تو اس کو ڈرون سے ملا دیا جاتا ہے عوام کی مال و جان کا تحفظ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے طالبان نے خود کو منظم کیا جہاں سے خود کش بمبار آ رہے ہیں وہاں پر نظریں بند کی ہوئی ہیں صوبے میں انارکی ہے عمران خان کو سیاست کا علم ہی نہیں اور نہ ہی وہ صوبے پر توجہ دے رہے ہیں اگر وہ اپنے وزیراعلیٰ سے مایوس ہیں تو انکے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے حکومت میں یہ ہیں اور مارے ہم جا رہے ہیں عمران خان نے طالبان سے مک مکا کیا ہے ان کا نام کیوں نہیں لیتے ۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر لالہ عبد الرؤف نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کی لہر اٹھی ہوئی ہے خاص طور پر کے پی کے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جتنی قربانیاں اے این پی نے دی ہیں اتنی کسی نے نہیں دی آج بھی ان کا قتل عام جاری ہے چوہدری اسلم کے ساتھ جو ہوا سب کے سامنے ہے اعتزاز حسن نے جان دے کر بچوں کی جان بچائی ، تمام سیاسی جماعتیں دہشتگردی کیخلاف سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے مولانا غفور حیدری نے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دس سال سے دہشتگردی کا شکار ہیں اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی کپتان اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کیلئے کبھی کراچی اور کبھی لاہور ہوتے ہیں مثالی صوبہ بنانے کی باتیں کرنیوالوں کیلئے اب وہاں جانا مشکل ہو گیا ہے ، مرکزی حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھائے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے کبھی کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو اتنا مضبوط کیا جائے کہ واقعہ ہونے سے پہلے اس کا تدارک کیا جائے ۔

حکمران بیانات دے کر جان چھڑا لیتے ہیں عوام نے عمران کو ووٹ دیا ہے تو وہ وہاں جا کر بیٹھے جرأت کا مظاہرہ کریں اور حکومت سے مستعفی ہو جائیں ان کو حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے ان واقعات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک عرصے سے ریاست کے اندر دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں انتخابات میں خیبر پختونخوا میں حکومت کرنیوالی جماعت نے واضح کہا تھا کہ اس کے پاس ایک میجک بانڈ ہے برسراقتدار آتے ہی ملک میں دہشتگردی ختم ہو جائے گی لیکن جب سے ان کی حکومت آئی ہے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے ایسا لگتا ہے صوبائی حکومت نے دہشتگردی کیخلاف سیاسی اونر شپ ختم کر دی ہے جب کسی کی شہادت ہوتی ہے تو کوئی حکومت نمائندہ جنازے میں نہیں جاتا اس سے واضح پیغام ہے کہ صوبائی حکومت کی اونر شپ اس جنگ میں نہیں ہے یہ مسئلہ ریاست پاکستان اور وفاق کا ہے وفاقی حکومت نے بڑے دعوے کئے تھے کہ ایک ماہ میں انسداد دہشتگردی اور نیشنل سیکیورٹی پالیسی دینگے لیکن چھ ماہ گزر گئے ہیں وزارت داخلہ نہ کوئی پالیسی نہیں دی ۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے مذاکرات کی تمام جماعتوں نے حمایت کی آج بھی وزیر داخلہ نے بیان دیا ہے کہ ٹی ٹی پی مذاکرات کیلئے تیار ہیں جبکہ ٹی ٹی پی پہلے دن سے ہی یہی بات کر رہی تھی پھر چھ ماہ کا عرصہ کیوں گزارا گیا اس دوران نہ حکمت عملی بنائی گئی اور نہ ہی کوئی پالیسی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں حکومت سینیٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتی اگر مذاکرات ہو رہے ہیں تو دونوں ایوانوں کا ان کیمرہ اجلاس بلائے جائے اور بتایا جائے کہ کن شرائط پر مذاکرات کئے جا رہے ہیں کیونکہ یہ صرف حکومت کا مسئلہ نہیں اس کے اور بھی سٹیک ہولڈر ہیں اگر حکومت اس سلسلے میں کوئی معاہدہ کرتی ہے اور پھر لوگوں کے سامنے لاتی ہے تو مناسب نہیں ہو گا ان کیمرہ اجلاس میں نیشنل سیکیورٹی کا مسودہ پیش کیا جائے اور طالبان سے مذاکرات کا بتایا جائے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر سید مظفر شاہ نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے فیصلہ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے عبوری وقت میں حکومت اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے اقدامات کرے ، طالبان سے مذاکرات پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اعتماد میں لیا جائے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر احمد حسن نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت خود کو دہشتگردی سے لاتعلق سمجھتی ہے اور کے پی کے میں مرکزی حکومت کا کردار بھی اسی طرح ملتا جلتا ہے انہوں نے کہا کہ واقعات کو بھول جانا حماقت ہے خیبر پختونخوا حکومت وقت گزار رہی ہے یہ ہمارا قومی المیہ ہے کہ جب چوری ہو جاتی ہے تو چوکیدار بیدار ہو جاتا ہے کے پی کے میں بھی یہی صورتحال ہے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کے پی کے میں جو صورتحال ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سے کوئی مایوس نہیں بلکہ تحریک انصاف سے عوام مایوس ہیں جس نے پاکستان کے ساتھ ظلم کیا جب دہشتگردی پر قومی اتفاق رائے پیدا ہو رہا تھا تو تحریک انصاف اور اسکی لیڈر شپ نے عین اسی وقت اس اتفاق رائے میں دراڑیں ڈالیں۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا مورال ختم ہو رہا ہے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ ایک مشترکہ اجلاس بلایا جائے سب اکٹھے ہو کر دہشتگردی سے متعلق حکمت عملی بنائیں بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ احمق کی نشانی ہے کہ وہ خود کو عقلمند سمجھتا ہے حملے خیبر پختونخوا میں ہوئے اور عمران خان پنجاب حکومت کو رو رہے تھے کے پی کے میں جو ہو رہا ہے وہ توقعات کے عین مطابق ہو رہا ہے سونامی خان مایوس خان بن گئے ہیں صرف باتیں ہو رہی ہے صرف مایوسی ہونے سے بات ختم نہیں ہو گی ہم ان کو مشورہ دینے سے ڈرتے ہیں آج بھی صوبائی حکومت کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن افلاطون ہے انہوں نے کہا کہ مذاکرات بندوق سے نہیں انسانوں سے ہوتے ہیں گولی سے صرف گولی مذاکرات کرتی ہے ۔

وقت اشاعت : 13/01/2014 - 22:33:12

اپنی رائے کا اظہار کریں