بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے،شرجیل انعام میمن،طالبان ..
تازہ ترین : 1

بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے،شرجیل انعام میمن،طالبان اور سیاسی عسکری ونگوں کے بارے میں ہماری رائے مختلف نہیں ہے جو بھی کریمنل ہے سندھ حکومت اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہی ہے، پریس کانفرنس

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری ۔2014ء)پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے جرات سے ایس پی چوہدری محمد اسلم قتل کیس میں طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان شاہد اللہ شاہد کو نامزد کرنے کا بولڈ اسٹیپ لیا ہے وفاقی حکومت کو بھی حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے گومگو کی کیفیت سے نکلنا چاہیے وہ کیوں ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتی، کراچی میں سیاسی پارٹیوں کے عسکری ونگوں سمیت کویمنلز کے خلاف کاروائی جاری ہے مگر پکڑے جانے والوں کی سیاسی وابستگی بتانے کا ہمیں کوئی شوق نہیں، پیپلزپارٹی آرٹیکل 6 سے غداری کا لفظ نکالنے کی چوہدری شجاعت کی ترمیم کی حمایت نہیں کرتی، پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ اب عدالت اور وزیراعظم نوازشریف نے کرنا ہے، سندھ میں بلدیاتی حلقہ بندیوں میں تھرڈ پارٹی کو شامل کرنے کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے یہ حکومت کا ہی کام ہے۔

وہ سول لائن میں اپنی رہائشگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر مسلم لیگ فنگشنل تحصیل دیہی حیدرآباد کے صدر طاہر پوہڑ اور ان کے بیٹے اقبال پوہڑ نے برادری کے ساتھ پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا جس کا شرجیل میمن نے خیرمقدم کیا۔ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر خودکش حملے کی ایف آئی آر کے حوالے سے سوال پر پی پی کے رہنما اور صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تحریک طالبان نے چوہدری اسلم پر خودکش حملے کی ذمہ داری چونکہ قبول کی ہے اس لئے سندھ حکومت نے جراتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کے سربراہ مولوی فضل اللہ اور ترجمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیاہے اگر سندھ حکومت میں یہ جرات ہے تو وفاقی حکومت میں بھی یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ ایسا ہی کرے حکومت میں بیٹھے ایسے لوگ بھی ہیں جو طالبان کا نام بھی کھل کر نہیں لیتے اور دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے بھی سو بار سوچتے ہیں کہ ان کی کوئی بات طالبان کو بری نہ لگ جائے یہ رویہ ختم ہونا چاہیے، کراچی میں طالبان کے کھلی جنگ شروع کرنے کے بارے میں سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ نئی بات نہیں لیکن طالبان کھل کے سامنے نہیں وقفے وقفے سے سازشیں کرتے ہیں رینجرز اور پولیس کراچی میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کاروائی کر رہی ہیں اور ان کو مارا اور گرفتار کیا جا رہا ہے دو روز قبل ہی طالبان کے تین افراد مقابلے میں مارے ہیں ہماری فورسز ان کے خلاف لڑ رہی ہیں اگر سندھ حکومت ایسا کر سکتی ہے تو وفاقی حکومت کیوں نہیں کر سکتی وہ کیوں ان کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں کرتی ہمارے جون شہید ہو رہے ہیں اور کچھ لوگ تماشہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آٹھ دس سال سے خودکش حملوں کا کلچر ہے جو اب پھیل گیا ہے یہ ان حکومتوں کی ناکامی ہے جنہوں نے ماضی میں اپنے ادوار میں اسے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ اب طالبان کے بھی 10 گروپ سامنے آ گئے ہیں اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے وفاقی حکومت کو نہایت سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو اے پی سی نے حکومت کو یہ مینڈیٹ دیا تھا کہ ہتھیار پھینکنے کی شرط تسلیم کرنے والے طالبان سے مزاکرات کئے جائیں یہ نہیں ہو سکتا کہ مزاکرات کی بات کرکے یہ شہریوں اور افسروں کو مارتے رہیں ہم اس کے خلاف ہیں وفاقی حکومت خود گومگو کی کیفیت میں ہے اور اس نے پوری قوم کو بھی الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے اب حکومت پاکستان حتمی فیصلہ کرے واضع پالیسی اختیار کرکے سخت ایکشن لے، کراچی میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگوں کے حوالے سے سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ طالبان اور سیاسی عسکری ونگوں کے بارے میں ہماری رائے مختلف نہیں ہے جو بھی کریمنل ہے سندھ حکومت اس کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کر رہی ہے اور جرائم پیشہ افراد سے کوئی مزاکرات نہیں کئے جا رہے عسکری ونگوں کے جرائم پیشہ افراد بھی پکڑے گئے ہیں جن کے خلاف مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں لیکن ان کی سیاسی وابستگی ظاہر کرنے کا ہمیں کوئی شوق نہیں۔

ایک سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس عدالت میں ہے اب خصوصی عدالت اور وزیراعظم کے ہاتھ میں ہے کہ وہ فیصلہ کریں اس پر زیازہ بحث نہیں ہونی چاہیے، آئین سے غداری کا لفظ نکالنے کے بارے میں چوہدری شجاعت حسین کی آئینی ترمیم کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان مقدس ہے مملکت کا پورا نظام اس کے تحت چلتا ہے پہلے آئین میں من مانی ترامیم کی گئی تھیں مگر پی پی حکومت نے آئین کو اصلی شکل میں بحال کیا اب اگر مخصوص مقاصد کے لئے زبردستی کوئی ترمیم لانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کی پیپلزپارٹی سخت مخالفت کرے گی پی پی نہیں چاہتی کہ ایسی کوئی آئینی ترمیم ہو جو آئندہ مسائل کا سبب بنے۔

ایک سوال پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی پی کسی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کر رہی لوگ غیرمشروط طور پر اپنی مرضی سے مختلف اضلاع میں پی پی میں شامل ہو رہے ہیں، فنگشنل لیگ سے لوگوں کے جانے میں امتیاز شیخ کا اہم کردار ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما لیاقت جتوئی کے پی پی میں شامل ہونے کے لئے رابطے کا مجھے علم نہیں تاہم اخبارات میں ایسی خبر آئی ہے پی پی کو ان کی ضرورت نہیں دادو کے پیپلزپارٹی کے لوگ ان کے خلاف ہیں اگر ان کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا تو پی پی کی قیادت فیصلہ کرے گی، بلدیاتی حلقہ بندیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیاں کرنا حکومت کا کام ہے کسی سیاسی جماعت کا کام نہیں ہم نے جو میکنزم بنایا تھا وہ بہت تیز تھا ڈپٹی کمشنروں نے اعتراضات طلب کرکے حلقہ بندیاں کیں کمشنرز نے اعتراضات سنے اس وقت کسی نے ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی، انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں میں تیسرے فریق کے دخل کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے یہ صرف حکومت کا کام ہے اور حکومت کے نمائندے ہی کریں گے، ڈپٹی کمشنر کمشنر پی پی کے لوگ نہیں حکومت کے ملازمین ہیں۔

حیدرآباد میں بدامنی کی صورتحال کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر نئے ایس ایس پی قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں کراچی کے آپریشن کے بعد وہاں سے بھاگنے والے افراد مختلف مقامات پر کرائم میں ملوث ہیں جبکہ بیروزگاری کی وجہ سے بھی کرائم بڑھ رہا ہے، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ارباب غلام رحیم کے دور میں حیدرآباد ضلع کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے جاگیر کی طرح بانٹا گیا تھا اور پھر جب پیپلزپارٹی کے وعدے کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حیدرآباد کی اصل حیثیت میں بحالی کا اعلان کیا تھا تو کچھ دوستوں نے اس پر بڑا شور مچایا تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/01/2014 - 23:30:40

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں