علماء نے ہمیشہ ملک کے حقیقی محافظ کے طور پر کام کیاہے ان کی قربانیوں کو نذر انداز ..
تازہ ترین : 1

علماء نے ہمیشہ ملک کے حقیقی محافظ کے طور پر کام کیاہے ان کی قربانیوں کو نذر انداز نہیں کیا جاسکتا، سردار محمد یوسف ،پاکستان میں ملکی سلامتی،بقا اور فلاح کے لئے مذہبی اداروں اور علماء کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،وفاقی وزیر مذہبی اُمور

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 جنوری ۔2014ء)وفاقی وزیرمذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہاہے کہ پاکستان میں ملکی سلامتی،بقا اور فلاح کے لئے مذہبی اداروں اور علماء کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، حکومت عصری اور دینی اداروں کی تعلیم کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہیں ،علماء نے ہمیشہ ملک کے حقیقی محافظ کے طور پر کام کیاہے ان کی قربانیوں کو نذر انداز نہیں کیا جاسکتا، مذہبی اداروں کی طرح عصری تعلیمی اداروں میں بھی بنیادی مذہبی تعلیم کو رائج کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ،مذہبی اداروں میں عصری اور دینی دونوں تعلیم دے کر علماء اہم فریضہ ادا کررہے ہیں، جن بچوں نے حفظ قرآن مکمل کیا ان کے والدین لائق تحسین اور قابل فخر ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹ کونسل میں اقراء رحمانیہ مدرستہ اطفال لی مارکیٹ لیاری کراچی کے سالانہ تقریب تکمیل حفظ قرآن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے مجلس صو ت اسلام پاکستان کے چیئرمین مفتی ابوھریرہ محی الدین ،اقراء رحمانیہ مدرستہ اطفال کے چیئرمین مولانا الطاف الرحمن رحمانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں حفظ قرآن کریم مکمل کرنے والے 75طلبہ وطالبات نے اپنا آخری سبق سنا یا جن کی عمریں چھ سے تیرا سال کے درمیان تھیں۔

اس موقع پر طلبہ نے مختلف خاکے بھی پیش کیے جن کو شرکاء نے سراہا۔تقریب میں حفظ قرآن مکمل کرنے، وفاق المدارس اور کراچی سیکنڈری بورڈ کے سالانہ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات میں انعامات اور خصوصی شیلڈز بھی تقسیم کی گئی ۔تقریب میں سماجی رہنماء حاجی مسعود پاریکھ، مولانا جمیل الرحمن فاروقی ،قاضی محمد صادق، مولانا محمد اسماعیل ،مفتی صاحب گل اوربچوں کے والدین ، عمائدین شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرمحمد ناظمین اطہر نے انجام دیے۔سردار محمد یوسف نے کہاکہ آج کی تقریب میں جس طرح چھوٹے بچے بچیوں نے دینی وعصری باالخصوص قرآن پاک کی تعلیم کے حوالے سے جس کارکردگی کا مظاہر ہ کیاہے وہ قابل تحسین اوردیگر تمام اداروں کے لئے مشعل راہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ صرف عصری تعلیم ہی ضروری نہیں بلکہ اصل ضرورت مذہبی تعلیم ہے لیکن مذہبی اداروں کو اپنے ہاں ضروری عصری تعلیم کا انتظام بھی کرنا چاہیے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ عصری اداروں کے مقابلے میں مذہبی اداروں میں دونوں تعلیم دلانے کے حوالے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے ،جس کی واضح مثال آج کی یہ تقریب ہے جہاں پر بچوں نے نہ صرف قرآن پاک کے حوالے سے بلکہ انگریزی، عربی اور اردو زبانوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،یہ یقینا اس ادارے میں دی جانے والی بہترین تعلیم وتربیت کا نتیجہ ہے ۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت مذہبی اور عصری تعلیم کو ہم آہنگ کرنے کے لیے کوشاں ہیں اس حوالے وزیر اعظم میاں محمدنوازشریف کی کوششیں لائق تحسین ہیں، لیکن وفاقی حکومت کو عصری اداروں میں بنیادی مذہبی تعلیم کے نفاذ اور ملک بھر میں یکساں تعلیم نظام کے لیے بعض قانونی اور دیگر رکاوٹیں حائل ہیں ۔ا نہوں نے کہاکہ علماء نے ہمیشہ اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی ہے اور علماء کا کردار ناقابل فراموش رہاہے۔

طلبہ کی بہتر کارکردگی پر وفاقی وزیر نے اقراء رحمانیہ مدرستہ اطفال کے مہتتم مولانا الطاف الرحمن رحمانی اور تربیت علماء کے حوالے سے خدمات پر مجلس صوت الاسلام کے مفتی ابو ھریرہ محی الدین کو خراج تحسین پیش کیا ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجلس صوت الاسلام کے چیئر مین مفتی ابوھریرہ محی الدین نے کہاکہ جولوگ علماء اور مذہبی اداروں پر مختلف الزامات لگاتے ہیں وہ بے بنیاد ہیں علماء مذہبی اداروں میں دینی وعصری تعلیم کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں علماء نے ہمیشہ اس ملک میں ظلم ،دہشت گردی ،بدامنی ،اسلام اور ملک دشمنی کا بھر پور مقابلہ کیا ہے ، اس وقت بھی مذہبی ادارے عصری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے اقراء رحمانیہ مدرستہ اطفال کے چیئرمین اور انتظامیہ کو بہتر کارکردگی کے مظاہرے پر خراج تحسین پیش کیا اور وفاقی وزیر مذہبی امور کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے درویش وفاقی وزیر قرار دیا۔ اقراء رحمانیہ مدرستہ اطفال کے چیئرمین مولانا الطاف الرحمن رحمانی جامعہ کی مختصر کارکردگی پیش کرتے ہوئے کہاکہ 13سال کے قلیل عرصہ میں سینکڑوں طلبہ وطالبات نے حفظ القرآن مکمل کیا ، وفاق المدارس ،کراچی میٹرک بورڈ اور دیگر اداروں کے امتحانات میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔

ہمارا مقصد دینی وعصری تعلیم کے شعور کو بیدار کرنے اور لوگوں کے لیے مثالی افراد پید اکرنا ہے جو مستقبل میں معاشرے کی اصلاح کا سبب بنیں گے ۔رواں برس ادارے میں 75طلبہ وطالبات نے حفظ قرآن مکمل کیا جن کی عمریں 6سے 13سال کے درمیان ہیں ۔

وقت اشاعت : 12/01/2014 - 20:33:28

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں