کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے ..
تازہ ترین : 1

کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے غیر معمولی نتائج حاصل ہوئے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ، کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے پرامن فضا ناگزیر ہے ، نیو سندھ سیکرٹریٹ میں منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔8 جنوری ۔2014ء)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرزاور دہشت گردوں کی خلاف جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے غیر معمولی نتائج حاصل ہوئے ہیں اور جلد ہی شہر کو جرائم سے پاک کیا جائے گا۔وہ بدھ کونیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی جانب سے نیو سندھ سیکرٹریٹ میں منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کررہے تھے ۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر نثاراحمد کھوڑو، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو، چیف سیکرٹری سندھ سجاد سلیم ہوتیانہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ممتاز علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات عارف احمد خان، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، آزاد کشمیر، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام موجود تھے جنہوں نے بحث مباحثے میں بھی حصہ لیا۔

ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے پرامن فضا ناگزیر ہے اس لئے حکومت سندھ عوام کی جان و مال ، سرکاری و نجی املاک ، ہر ادارے اور فرد کی سیکورٹی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی سطح پر کسادبازاری اور بدتر اقتصادی صورتحال کے باوجود حکومت سندھ نے پہلے سال 55 ہزارجبکہ پانچ سالوں میں 2 لاکھ افراد کو سرکاری محکموں میں نوکریاں دیں، اور اتنے ہی نوجوانوں کوتربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا ۔

انہو ں نے کہا کہ مسلسل کوششوں کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کا معاملہ اتفاق رائے سے حل کیا جس کے تحت قومی وسائل کو آبادی کے بنیاد کے بجائے کثیر فیکٹر کے تحت صوبوں میں تقسیم کرنے کو یقینی بنایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر اتفاق رائے کے بعد صوبہ سندھ کے حصے میں 25 بلین اضافی آئے اوراس کے علاوہ خدمات پر ٹیکس کی مد میں بھی 20 ارب روپے اضافی موصول ہوئے جو کہ ان کے مطابق اس سے قبل صرف 4 سے 5 ارب روپے ملتے تھے۔

اس کے علاوہ ایف بی آر یکوری چارچز جو کہ پہلے 4 فیصد تک وصول کی جاتی تھی ، اس کو ایک فیصد تک لیکر آئے ہے جس سے صوبے کو کافی فائدہ پہنچا۔ فوڈ سیکورٹی سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت 2008 میں اقتدار میں آئی اور اس وقت گندم کی قلت تھی، ہم نے پانچ سالوں میں نہ صرف ملک کو گندم میں خودکفیل بتایا بلکہ چاول کی پیداوار میں 40 فیصد، کپاس میں60 فیصد اضافہ ہو ا جو کہ حکومت کی آبادگاردوست پالیسوں کا نتیجہ ہے جس کے سبب فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہو ا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ آج وطن عزیز کو درپش سب سے بڑا چیلنج توانائی کا بحران ہے، خداوند تعالیٰ کی مہر بانی سے صوبہ سندھ میں دستیاب وسائل سے اس بحران سے کامیابی سے نمٹا جا سکتا ہے تھر میں 185 بلین ٹن کوئلے کے ساتھ، ساحل سمندر پر طاقتور ونڈ کاریڈور اورملکی ضروریات کی 70 فیصد گیس بھی صوبہ سندھ میں دستیاب ہے لیکن فنڈز کی کمی کے باعث غیر ملکی سرمائے کاروں کو مدعو کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس وقت ہم کوئلے پر چلنے والے موجودہ پاور پلانٹس کے ذریعے 150 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے اندر ہم تھر پر مائینگ کا آغاز کر رہے ہیں، پہلے مرحلے میں 325 میگاواٹ ،دوسرے مرحلے میں 600، تیسرے مرحلے میں1200 بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی مہم معاشی پالیسیوں کے سبب غربت میں 7 سے 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو کہ صوبہ میں امن وامان کی فضا کے لئے اچھا شگون ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ 2010-11 میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے مجموعی طور پر 16 ملین افراد متاثر ہوئے جن کو حکومت سندھ نے 9 ماہ تک رہائش، کھانے پینے اور ادویات فراہم کیں اور سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر بھی خطیر رقم خرچ کی گئی۔

بعد ازان میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ میں رہنے والا ہر فرد سندھ دھر تی کو اپنی ماں سمجھتا ہے اور سندھ کی تقسیم کسی کو نہیں کرنے دیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کاانعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن جس وقت چاہے الیکشن کے انعقاد کر سکتی ہے جن کے لئے حکومت سندھ مکمل تعاون کریگی۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کے لئے جدوجہد کی ہے نہ صرف خو د جمہوری عمل میں حصہ لیا ہے لیکر دوسری جماعتوں کو بھی اس کے لئے قائل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیاں قدرتی تقاضوں کے مطابق کیں جبکہ ہمارے دوست 2001 کے مشرف قانون کے تحت حلقہ بندیاں چاہتے ہیں جو کہ ختم ہو چکا ہے۔

وقت اشاعت : 08/01/2014 - 22:21:19

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں